آبادی کی منتقلی کے وقت مسجد کو ملنے والی رقم کا استعمال

مسئلہ:

اگر کسی علاقے میں حکومتِ وقت کوئی ڈیم تعمیر کررہی ہو، جس کے لیے وہ اطراف واَکناف کی اُن آبادیوں کو جو زیر آب کے دائرہ میں آرہی ہیں، کسی اور جگہ منتقل کررہی ہو، او راُن آبادیوں میں رہنے والوں کو ان کے مکانات وجائداد کے عوض زمینیں اور نقد رقم بطورِ معاوضہ دے رہی ہو، اسی طرح وہ مساجد اور قبرستان کے عوض زمین اور اُن کی تعمیری لاگت کے بقدر نقد رقم دے رہی ہو، تو اس زمین اور نقد رقم کا لینا جائز ہے، اور جو زمین ورقم جس کے عوض ملی، اُسے اسی مصرف میں صرف واستعمال کرنا لازم ہے، یعنی مساجد کو ملنے والی زمین اور نقد رقم مساجد میں، اور قبرستان کو ملنے والی زمین اور نقد رقم قبرستان میں استعمال کی جائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” رد المحتار “ : لا یجوز استبدال العامر إلی في أربع ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (إلا في أربع) ۔۔۔۔ الثانیة: إذا غصبه غاصب وأجری علیه الماء حتی صار بحرًا فیضمن القیمة ویشتري المتولي بها أرضًا بدلا۔(۵۸۸/۶ ، کتاب الوقف، مطلب لا یسبتدل العامر إلا في أربع، ط: بیروت)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : فإن أرض الوقف إذا غصبها غاصب وأجری علیها الماء حتی صارت بحرًا لا تصلح للزراعة یضمن قیمتها ویشتري بقیمتها أرضًا أخری فتکون الثانیة وقفًا علی شرط الأولی، وکذلک أرض الوقف إذا قلّ نُزْلها (رَیعُها) لآفة وصارت بحیث لا تصلح للزراعة أو لا تفضل غلّتها عن موٴنها یکون صلاح الوقف في الاستبدال بأرض أخری ۔ (۱۹۵/۴۴، بیع الموقوف والاستبدال به، الاستبدال بالموقوف عند الحنفیة، وقف)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ومتی قضی بالقیمة شری بها عقارًا آخر فتکون وقفًا بدل الأول ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (ومتی قضی بالقیمة) أي بأن غصب أرضًا وأجری علیها الماء حتی صارت بحرًا لا تصلح للزراعة ۔ اسعاف ۔ وقدمنا عن جامع الفصولین: لو غصب وقفًا فنقص مما یوٴخذ بنقصه یصرف إلی مرمته لا إلی أهل الوقف، لأنه بدل الرقبة، وحقهم في الغلة لا في الرقبة ۔ اه ۔ قوله: (فیکون وقفًا بدل الأول) أي بلا توقف علی تلفظ بوقف کما في ” معین المفتي “ وغیره ۔کذا في ” شرح الملتقی “۔

(۴۸۲/۶ ، الوقف، مطلب سکن المشتري دار الوقف، ط : بیروت)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۱۱۹۶۹)

اوپر تک سکرول کریں۔