(فتویٰ نمبر: ۱۷)
سوال:
۱-آج کل تجارت کرنے کا ایک نیا طریقہ شروع ہوا ہے، جو کسی بہت بڑے ادارے یا کسی کمپنی کی معرفت چل رہا ہے، اس کے تحت اگر کوئی فرد یہ تجارت شروع کرتا ہے تو پہلے اسے اس کمپنی میں ممبر شپ حاصل کرنا پڑتی ہے، اورممبر شپ ملنے کے بعداس کمپنی کے ذریعے ہمیں جو چیزیں ملتی ہیں انہیں مختلف قیمتوں پر فروخت کرنا پڑتا ہے اور ہمیں وہ چیزیں فروخت کرنے پر رعایت کی صورت میں نفع حاصل کرنا ہوتا ہے، مطلب کہ زید نے اگر اس کمپنی کی ممبر شپ لی اور اسے اگر کوئی چیز جس کی قیمت ۵۰/روپئے ہے ،۴۰/ روپے میں ملتی ہے،تو زید وہ چیز دوسروں کو ۵۰/روپے میں فروخت کرکے ۱۰/ روپے نفع حاصل کرتا ہے ، تو کیا اس طریقے سے آمدنی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
۲-اب زید کمپنی کے اصول کے مطابق تین مہینے میں دس ہزار کی خریدوفروخت کرتا ہے، تو کمپنی اسے انعام کے طور پر ہر مہینے دوہزار (2000)روپے دینا طے کرتی ہے، اور وہ روپیہ زید کو ہر مہینے ملنے لگتا ہے،تو کیا وہ روپیہ لینا جائز ہے یانہیں؟یا پھر وہ سود میں داخل ہے؟
۳-زید اس کمپنی کا ممبر رہتے ہوئے دوسرے تین لوگوں کو اسی کمپنی کا ممبر بناتا ہے، وہ لوگ بھی اس کمپنی سے خریدو فروخت کرکے نفع حاصل کرتے ہیں، ان تینوں میں شامل ایک شخص جس کا نام عمرو ہے، وہ الگ سے دوسرے تین لوگوں کو ممبر بناتا ہے، تو وہ جو بھی اس کمپنی کے ذریعے خرید وفروخت کرتے ہیں اس میں زید کا بھی کمیشن ہوتا ہے، جو اسے روپیہ کی صورت میں کمپنی دیتی ہے، زید ان تین لوگوں سے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ہے ، لیکن ان تینوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ہماری تجارت کرنے سے زید کو بھی ہمارے ساتھ کمیشن کی صورت میں کمپنی روپیہ دیتی ہے، کیوں کہ وہ تینوں زید کے ذریعے کمپنی کے ممبر بنے تھے، اسی طرح عمرو نے الگ سے جو تین لوگو ں کو اسی کمپنی کا ممبر بنایا ان کے ساتھ بھی زید سا معاملہ ہے، لیکن عمرو کے بنائے گئے تین ممبر کاکمیشن عمرو کے ساتھ ساتھ زید کو بھی کمپنی دیتی ہے، اور جب اس طرح کرتے کرتے زید ۵۰/ ہزار تک خرید وفروخت کرتا ہے، تو کمپنی زید کو اب ہر مہینے دو ہزار کے بجائے ۱۵/ہزارروپے دیتی ہے، اور ساتھ ساتھ رائلٹی (Royelty) بھی دیتی ہے، رائلٹی کا مطلب یہ ہے کہ اگر زید کا انتقال ہوجاتا ہے تو کمپنی جو ہر مہینے یہ روپیہ زید کو دیتی تھی اب اس کے وارثوں کو ملے گا، زید کا اپنے ذریعے بنائے گئے تین ممبروں کا کمپنی سے اس طرح روپیہ لینا جائزہے یا نہیں؟ کیا یہ روپیہ سود میں شامل ہے ؟
۴-زید کے بعد عمرو کے ذریعے بنائے گئے ممبروں میں سے عمرو کے ساتھ وہی خریدوفروخت پر زید کو کمپنی کی طرف سے روپیہ ملنا شریعت میں کیا درجہ رکھتا ہے، جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ سب شامل ممبروں کو اس طریقہٴ کا رکا علم ہے۔
۵– زید کے بعد عمرو اور عمرو کے بعد کوئی اور شخض، اسی طرح سے تجارت کا یہ طریقہ چلتا رہے گا، جو کمپنی کا اصول ہے، اور جتنی خریدو فروخت بڑھتی جائے گی زید کو نفع یا انعام کی صورت میں جو روپیہ ملتا تھا وہ بھی بڑھتا رہے گا، اور اس طرح سے زید کو عمرو کے بنائے گئے ممبروں کے گروپ کے بعد بلا محنت کے آمدنی ہوتی رہے گی، شریعت میں تجارت کے اس طریقے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟
۶-زید کو بلا محنت کے ملنے والی آمدنی یا نفع سود میں داخل ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-سوال میں مذکور بیع وتجارت کی یہ صورت کہ کمپنی کی مصنوعات کھلی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتیں، بلکہ جو شخص کمپنی کا ممبر بنتا ہے اسی کو کمپنی کی مصنوعات فراہم کی جاتی ہے، شرعی نقطہٴ نظر سے صحیح نہیں ہے، کیوں کہ شرعِ اسلامی کا نقطہٴ نظر یہ ہے کہ مال کی رسد (بازار میں پہنچنا) میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اور عام لوگ کھلے بازار میں اسے خرید سکیں،اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع کی اس صورت سے منع فرمایا،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقی ٴجلب سے منع فرمایا۔(تلقی ٴجلب یہ ہے کہ جب سوداگر باہر سے سامان بیچنے آئے تو شہر سے باہر جاکر ان سے ملاقات کرکے کم داموں میں سامان خریدنا، پھر اس سامان کو شہر والوں کے ہاتھوں مہنگی قیمت میں بیچنا )۔(۱)
۲-کمپنی ممبر کو ایک اہم سہولت یہ دیتی ہے کہ وہ جن لوگوں کو ممبر بناتا ہے اور کمپنی سے سامان خریدنے کے لیے آمادہ کرتا ہے، اس پر کمپنی اسے کمیشن (Commission) دیتی ہے، اور یہ کمیشن صرف ان خریداروں تک محدود نہیں رہتا جن کو اس نے خریدار بنایا ہے ، بلکہ اس کے ذریعے سے بنے ہوئے خریداروں سے آگے جو خریدار تیار ہوں گے، ان کی خریداری پر بھی پہلے شخص کو کمیشن ملتا رہے گا، اور مرحلہ وار یہ سلسلہ بہت آگے تک چلا جاتا ہے،جب کہ شریعتِ اسلامی نے سرمایہ سے منافع حاصل کرنے کا جو اصول رکھا ہے وہ یہ ہے کہ سرمایہ کے ساتھ محنت ہو، محض زر سے زر حاصل نہ کیا جائے؛ اس لیے کہ زر سے زر حاصل کرنا غیر فطری عمل ہے، وہ اس طرح کہ زر میں فطرةً خود بخود بڑھنے کی صلاحیت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ سود حرام کیا گیاہے، اس اصول کے اعتبار سے بھی بیع کی یہ صورت ناجائز ہے۔
۳-شرعِ اسلامی کا تجارت کے سلسلے میں یہ بھی اصول ہے کہ ایک معاملے کو دوسرے معاملے سے جوڑا نہ جائے۔حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے(۲)، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع اور شرط سے منع فرمایاہے(۳)، جب کہ بیع وتجارت کی اس صورت میں کمپنی کے سامان کو خریدنے کے لیے گاہک کو کمپنی کا ایجنٹ بننا بھی شرط ہے، اس اعتبار سے بھی بیع کی یہ صورت ناجائز ہے ۔
۴-معاملہٴ خریدو فروخت کی صحت کے لیے شرعِ اسلامی نے یہ بھی اصول بیان کیا کہ مبیع (جس چیز کو بیچا جائے ) اور ثمن (قیمت) دونوں کی مقدار معلوم اور متعین ہو، جیساکہ علامہ شامی رحمہ اللہ تنویر الأبصار مع الدر المختار کی عبارت :” وشرط لصحتہ معرفة قدر“إلخپر کلام فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں :” وظاہرہ الاتفاق علی اشتراط معرفة القدر في المبیع والثمن “کہ مقدارِ مبیع وثمن کے معلوم ہونے کی شرط لگا نے پر اتفاق ہے۔ (رد المحتار مع الدر والتنویر:۴۸/۷ ،۴۹)
جب کہ بیع وتجارت کی اس صورت میں گاہک جو رقم ادا کرتا ہے، اس کا کچھ حصہ سامان کی قیمت اور کچھ ممبری فیس ہوتا ہے، یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رقم کی کتنی مقدار سامان کی قیمت ہے، اور کتنی مقدارر کنیت وممبری کی فیس، اس اعتبار سے بھی بیع کی یہ صورت ناجائز ہے۔
۵-اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ جو لوگ بیع وتجارت کی اس اسکیم میں شریک ہوتے ہیں، ان کا اصل مقصد کمپنی کا سامان خریدنا نہیں ہوتا، بلکہ نفع کمانا ہوتا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جو خریدار کے لیے باعثِ کشش ہوتا ہے، گویا رقم لگانے والا امید وبیم اورخوف ورجا کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے، ممکن ہے اصل رقم بھی ڈوب جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سار ا نفع ہاتھ لگ جائے،اصطلاحِ فقہ میں اسے ”قمار“ کہتے ہیں ، جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔(۴)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو حدیث میں بیعِ غرر سے تعبیر فرمایا ہے :” نہی رسول اللّٰہ ﷺ عن بیع الغرر “ ۔ (صحیح مسلم :۲/۲) اور فقہائے کرام نے غرر کی تعریف یہ فرمائی ہے : ” الغرر ما یکون مستور العاقبة “ جس چیز کا انجام معلوم نہ ہو وہ غرر ہے۔ (المبسوط:۱۹۴/۱۲)
بیع وتجارت کی یہ صورت قمار اور جوا ہونے کے اعتبار سے بھی ناجائز ہے، اس لیے اس طرح کی کمپنی کا ممبر بننا اور کمیشن حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن عبد اللّٰه ابن عمر – رضي اللّٰه عنهما – : أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ”لا یبیع بعضکم علی بیع بعض ، ولا تلقوا السلع حتی یهبط بها إلی السوق “ ۔(ص/۳۷۶ ، کتاب البیوع ، باب النهي عن تلقی الرکبان ، رقم : ۲۱۶۵ ، ط : دار إحیاء التراث العربي)
ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – : ” أن النبي ﷺ نهی أن یتلقی الجلب “ ۔(۲۳۲/۱ ، أبواب البیوع ، باب ما جاء في کراهیة تلقي البیوع)
(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن بیعتین في بیعة “۔
(۲۳۳/۱ ،أبواب البیوع ، باب ما جاء في النهي عن بیعتین في بیعة)
(۳) ما في ” مجمع الزوائد “ : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن بیع وشرط “ ۔ (۱۰۴/۴)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالأنْصَابُ وَالأزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْه لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱/۷ھ
