مسئلہ:
اگر کسی کی آنکھوں سے، تیز روشنی، دھوپ کی تپش، سرمہ لگانے، نماز میں کھانسی روکنے، نزلہ یا رونے کی وجہ سے پانی بہے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، کیوں کہ یہ پاک ہے،(۱) اور اگر کسی شخص کی آنکھ دکھنے میں پانی نکلتا ہے، تو بعض نے اسے نجس قرار دے کر ناقضِ وضو کہا ہے،(۲) لیکن حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ نے اس کو خلاف تحقیق قرار دیا ہے،(۳) نیز علامہ شامیؒ نے بھی ابن ہمامؒ کی یہ تحقیق نقل کی کہ ایسی صورت میں وضو کا حکم استحباباً ہے، وجوباً نہیں،(۴) اورقواعدشرعیہ کے مطابق یہی راجح ہے۔(۵)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا ینقض (لو خرج من أذنه) ونحوها کعینیه وثدیه (قیح) ونحوه کصدید وماء سرة وعین لا بوجع۔ (۲۷۹/۱)
(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامی “ : وإن خرج (به) أی بوجع (نقض) لأنه دلیل الجرح، فدمع من بعینیه رمد أو عمش ناقض۔
(۲۷۹/۱، کتاب الطهارة، مطلب: نواقض الوضوء، مطلب فی ندب مراعاة الخلاف إذا لم یرتکب مکروه مذهبه)
(فتاوی رحیمیه: ۲۵/۴۔۲۶، صحیح بهشتی زیور مکمل: ۵۲/۱)
(۳) (فتاوی رشیدیه :ص:۲۸۳، طهارت کے مسائل، آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳۸/۲)
(۴) ما فی ” الشامیة “ : قوله: (ناقض) قال فی المنیة: وعن محمد رحمه الله تعالی: إذا کان فی عینیه رمد وتسیل الدموع منها آمره بالوضوء لوقت کل صلاة، لأنی أخاف أن یکون ما یسیل منها صدیداً، فیکون صاحب العذر۔ (۲۸۰/۱، مطلب فی نواقض الوضوء)
ما فی ” الشامیة “ : قال فی الفتح: وهذا التعلیل یقتضی أنه أمر استحباب، فإن الشک والاحتمال لا یوجب الحکم بالنقض، بان الیقین لا یزول بالشک۔
(۲۸۰/۱، نواقض الوضوء)
(مسائل وضو:ص/۹۷، مفتی رفعت علی قاسمی)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو کان فی عینیه رمد أو عمش یسیل منهما الدموع، قالوا: یؤمر بالوضوء لوقت کل صلاة، لإحتمال أن یکون صدیداً أو قبیحاً، کذا فی التبیین۔
(۱۱/۱، نواقض الوضوء)
(۵) (فتاوی دارالعلوم :۱۳۴/۱، جدید فقهی مسائل:۹۴/۱۔۹۵)
