مسئلہ:
بعض بیرونی ممالک مثلاً U.S.A. U.K.-وغیرہ میں لوگ اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھوانا چاہتے ہیں، مگر وہاں کوئی مستند ومعتبر سہولت موجود نہیں ہوتی، اگر ہوتی بھی ہے تو بڑی مشکل سے ملتی ہے اور دور ہوتی ہے، اس لئے بعض لوگوں نے آن لائن قرآن کریم پڑھانا اور اس پر اجرت لینا شروع کردیا ، تعلیم قرآن کی اس صورت میں اگر پڑھانے والا قاری یا قاریہ تجوید کے ساتھ قرآن کریم پڑھانے کے ساتھ ساتھ صحیح عقائد ونظریات کے حامل ہیں، نیز کسی اور فتنہ کا اندیشہ نہیں ہے، تو آن لائن پر قرآن کریم کی تعلیم دینا اور حاصل کرنا ، اور اس خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے قاری یا قاریہ کا اجرت ومعاوضہ لینا تمام باتیں جائز ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوٰة المصابیح “: عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: ” طلب العلم فریضة علی کل مسلم “۔ (ص:۳۴)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “: واعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین، وهو بقدر ما یحتاج لدینه، قال: من فرائض الإسلام تعلم ما یحتاج إلیه العبد إقامة دینه وإخلاص عمله لله تعالی، ومعاشرة عباده، وفرض علی کل مکلف ومکلفة بعد تعلمه علم الدین والهدایة تعلم علم الوضوء والغسل والصلوٰة والصوم۔
(۱۲۱/۱، قبیل: مطلب فی فرض الکفایة وفرض العین)
ما في ” الشامیة “: قوله: (ویفتی الیوم بصحتها لتعلیم القرآن) قال فی الهدایة: وبعض مشایخنا رحمهم الله تعالی استحسنوا الاستئجار علی تعلیم القرآن الیوم لظهور التوانی فی الأمور الدینیة، ففی الإمتناع تضییع حفظ القرآن۔ وعلیه الفتوی۔(۷۶/۹، کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب تحریم مهم فی عدم جواز)
ما في ” الصحیح لمسلم “: عن محمد بن سیرین قال: ” إن هذا العلم دین فانظروا عن من تأخذون دینکم “۔
(۱۱/۱، مقدمة، باب ان الاسناد من الدین، مشکوٰة المصابیح: ص/۳۷، کتاب العلم، الفصل الثالث)
(فتاوی بنوریة، علی شبکة جامعة بنوریة، رقم الفتوی: ۱۰۳۳۴)
