آٹو رکشا یا فور وہیلر کی قیمت پر زکوة

مسئلہ:

کسی شخص کے پاس ایک آٹو رکشا یا فوروہیلر گاڑی تھی، جس کو کرایہ پر چلاکر اس کی آمدنی سے اس نے سال بھر میں مزید آٹو یا فور وہیلر گاڑیاں کرایہ پر چلانے کیلئے خریدی، اور آخر سال میں اس کے پاس اس کمائی سے کوئی نقد رقم باقی نہ رہی، یا باقی رہی مگر بقدر نصاب نہ رہی، تو اس شخص پر ان آٹو رکشا یا فوروہیلر گاڑیوں کی قیمت پر زکوٰة واجب نہیں، کیوں کہ یہ ذرائع آمدنی میں داخل ہیں، اور ذرائع آمدنی پر زکوٰة واجب نہیں ہوتی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه “ : (شرطه) أی شرط افتراض ادائها ثمنیة المال کالدراهم والدنانیر لتعینها للتجارة أو السوم أو نیة التجارة فی العروض۔ (۱۸۶/۳، کتاب الزکاة)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : فلیس فی دور السکنٰی ۔۔۔۔۔۔۔ وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمة وسلاح الاستعمال زکوة۔۔۔۔۔ وکذا الآلات المحترفین۔

(۱۷۲/۱، کتاب الزکاة ، الباب الأول)

ما فی ” فتاوی قاضیخان “ : ولو اشتری قدوراً من صفر یمسکها أو یوٴاجرها لا تجب فیها الزکوٰة کما لا تجب فی بیوت الغلة، وکذا لو اشتری جوالق بعشر آلاف درهم لیوٴاجر من الناس فحال علیها الحول لا زکوٰة فیها، لأنه اشتراها للغلة۔(۱۲۰/۱، فصل فی التجارة)

ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : إذا اشتری داراً أو عبداً فآجره خرج من أن یکون للتجارة لأنه لما آجره فقد قصد الغلة فخرج عن حکم التجارة۔(۱۸/۲، زکاة عروض التجارة)

(فتاوی محمودیه: ۱۳۸/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔