مسئلہ:
آپ ﷺ کا دائمی عمل جسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شمائلِ ترمذی میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے دن میں دو مرتبہ گوشت نہیں کھایا اور نہ روٹی، آپ ﷺ کا یہ عمل فقرِ اختیاری تھا ، اضطراری نہیں تھا، آپ ﷺ کا یہ عمل سننِ زوائد میں سے ہے، سننِ ہُدیٰ میں سے نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی ہمت وطاقت ، صحت وتندرستی کے پیشِ نظر آپ ﷺ کی اِس سنت پر عمل کرتا ہے ، تو اسے اجر وثواب ملے گا، اوراگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا ہے تو اس پر کوئی موٴاخذہ اور گناہ بھی نہیں ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” جامع الترمذی “ : عن مسروق قال: دخلت علی عائشة فدعت لي بطعام وقالت: ” ما شبع من طعام فأشاء أن أبکی إلا بکیت، قال: قلت: لم؟ قالت: اذکر الحال التي فارق علیها رسول الله ﷺ الدنیا والله ما شبع من خبز ولحم مرتین في یوم “ ۔ هذا حدیث حسن ۔(۶۱/۲، أبواب الزهد، باب ما جاء في معیشة النبي ﷺ وأهله، رقم: ۲۳۵۶)
ما في ” رد المحتار “ : والسنة نوعان : سنة الهدی؛ وترکها یوجب إساءة وکراهیة کالجماعة والأذان والإقامة ونحوها، وسنة الزوائد؛ وترکها لا یوجب ذلک کسیر النبي ﷺ في لباسه وقیامه وقعوده ۔۔۔۔۔ ویرد علیه أن النفل من العبادات وسنن من العادات۔ (۲۱۸/۱، کتاب الطهارة، مطلب في السنة وتعریفها، بیروت)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۴۸۴۱۵)
