اجرت پرحج کرنے کا حکم

مسئلہ:

اجرت پر حج کرنا درست نہیں ، کیو نکہ حج ایک عبا دت ہے جس میں اللہ کی رضا اور خوشنودی مطلوب ہے ،اور اجرت کی وجہ سے جو کام کیا جائے وہ اللہ تعالی کیلئے خالص با قی نہ رہا ،اس لیے نہ حج کرنے پر اجرت لینا جائز ہے اور نہ اجرت پر حج کرانا جائز ہے ، البتہ جس شخص سے حج کرایا جائے اس کے سفر کے اخراجات اور سفر سے واپسی تک اگر ضرورت مند ہو تو اس کے اہلِ خاندان کی ضروریا ت حجِ بدل کرانے والے پر ہے ۔

الحجة علی ما قلنا

 ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {ما أسئلکم علیه من أجر، إن أجري إلا علی رب العلمین} ۔(سورة الشعراء: ۱۰۹)

ما في ’’المبسوط للسرخسي‘‘: وقال في المبسوط: رجل استأجر رجلا لیحج عنه لم تجز الإجارة عندنا ۔ (۱۷۵/۴، الدر المختار مع الشامیة : ۶۵/۹)

ما في ’’ موسوعة القواعد الفقهیة ‘‘: بقاعدة فقهیة : ’’ کل طاعة یختص بها المسلم لما یجوز الاستئجار عندنا ۔ (۱۰۹/۱، الفقه الحنفي وأدلته :۸۴/۲)

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ولا یجوز الاستئجار علی الطاعات ۔ (۸۱/۴، مطلب في الاستئجار علی الحج، نعمانیه)

اوپر تک سکرول کریں۔