مسئلہ:
بعض لوگ پرائیویٹ فیکٹری یا اداروں میں مزدوری یا ملازمت کرتے ہیں، مثلاً تعمیری کام، یا بڑھئی کا کام کرتے ہیں، یا روٹی بنانے والی مشین میں گوندھے ہوئے آٹے کو ڈالنے کا کام کرتے ہیں، یا مشین کے ذریعہ آٹا گوندھتے ہیں وغیرہ، بسا اوقات اس طرح کے ملازمین کسی حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں، جیسے دیوار یا چھت گرگئی اور مزدور ہلاک ہوگیا، یا مشین میں ہاتھ چلا گیا اور انگلیاں یا پورا ہاتھ کٹ گیا وغیرہ، ایسی صورت میں فیکٹری یا ادارہ کے ذمہ داران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملازم کا علاج کرتے ہیں، یا اسے کچھ نقد دیتے ہیں، جو ان کی طرف سے محض تبرع واحسان ہے، کیوں کہ مزدور یا ملازم اس طرح کی حادثاتی صورت میں بطورِ ضمان وتاوان کسی رقم کا مستحق وحقدار نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” تکملة فتح الملهم “ : قوله: ” والمعدن جبار “ قال الحافظ في الفتح: فلوحفر معدنا في ملکه أو في موات فوقع فیه شخص فمات فدمه هدر، وکذا لو استأجر أجیرًا یعمل له فانهار علیه فمات، ویلتحق بالبئر والمعدن في ذلک کل أجیر علی عمل کمن استوجر علی صعود نخله فسقط منها فمات۔
(۵۲۵/۲، کتاب الحدود، باب جرح العجماء والمعدن والبئر جبار، تحت رقم الحدیث:۴۳۲۷، فتح الباري:۳۱۹/۱۲، کتاب الدیات، باب المعدن جُبار والبئر جُبار، تحت رقم الحدیث:۶۹۱۲)
ما في ” بذل المجهود “ : (والمعدن جُبار) أي إذا حفر حفیرة لاستخراج المعدن فوقع فیه انسان فهو هدر۔ (والبئر جبار) أي إذا حفر البئر في ملکه فسقط فیه أحد فهو هدر ۔۔۔۔۔۔ وقد یتأول أیضًا عن البئر تکون بالوادي یحفرها الإنسان فیُحییها بالحفر والإنباط، فیتردی فیها انسان فیکون هدرًا، والمعدن ما یستخرجه الإنسان من معدن الذهب والفضة ونحوهما فیستأجر قومًا یعملون فیها فربما انهارت علی بعضهم فهو هدر۔(۶۹۶/۱۲۔۶۹۷، کتاب الدیات، باب في الدابة تَنفَحُ برِجلها، تحت رقم الحدیث:۴۵۹۰)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۱۶۷۹)
