مسئلہ:
امریکہ اور لندن وغیرہ میں ذاتی مکان خریدنا انتہائی مشکل امر ہے، اور کرایہ کے مکان میں رہنا بھی، کیوں کہ کرایہ بہت زیادہ ہوتا ہے، آدمی کی ماہانہ کمائی کا بڑا حصہ کرایہ کی ادائیگی میں ہی خرچ ہوجاتا ہے، اس مشکل امر کے حل کے لئے بعض اسلامک فائنانس ادارے (Islamic Finance Institutes) وجود میں آچکے ہیں، جو مکان کے خواہشمند حضرات کیلئے اپنے پاس سے ایک خطیر رقم جاری کرتے ہیں، اور آسان قسطوں پر ان سے وصول کرتے ہیں، اگر یہ اسلامک فائنانس ادارے اپنی جانب سے مہیا کیے جانے والے قرض کی رقم پر کچھ زائد رقم وصول کرتے ہیں تو شرعاً یہ سود ہے، جو کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہے۔(۱)
البتہ اگر کوئی شخص ، ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کرکے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلے، اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر بیچ دے، اوراس طرح قسطوں کے معاملہ میں ابتداء ً یہی طے کیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہوں گی، اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی، اور کسی قسط کے مقررہ وقت سے موٴخر ہوجانے پر کسی قسم کا مزید کوئی چارج (Charge)بھی وصول نہیں کیا جائے گا(۲)، تو اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہوگا، اور ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی” القرآن الکریم “:﴿أحل الله البیع وحرم الربوا﴾۔( البقرة:۲۷۵) وقوله تعالی: ﴿یآیها الذین آمنوا لاتأکلوا الربا أضعافاً مضاعفةً واتقوا الله لعلکم تفلحون﴾۔
(آل عمران:۱۳۰)
ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر قال : ” لعن رسول الله ﷺ آکل الربوا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء “ ۔(۲۷/۲، صحیح البخاری :۲۸۰/۱، کتاب البیوع)
ما فی ” فیض القدیر للمناوي “ : عن علي رضي الله تعالی عنه قال: قال رسول الله ﷺ : ” کل قرضٍ جر منفعة فهو رباً “۔
(۲۸/۵، رقم الحدیث:۶۳۳۶، جامع الصغیر: ۳۹۴/۱، رقم الحدیث :۶۳۳۶)
(۲) ما فی ” بیع التقسیط وأحکامه “:فلا بد فی بیع التقسیط من بیان عدد الأقساط، ووقت أداء کل قسط، ومدة التقسیط کاملة، یحدد هذا تحدیداً منضبطاً لا یحصل معه نزاع بین الطرفین۔(ص:۱۸۱، المبحث الثالث، الشروط المتعلقة بالأجل)
ما فی ” فقه وفتاوی البیوع “ : البیع بالتقسیط لاحرج فیه، إذا کانت الآجال معلومة والأقساط معلومة، ولو کان البیع بالتقسیط أکثر ثمناً من البیع نقداً، لأن البائع والمشتری کلاهما ینتفعان بالتقسیط، فالبائع ینتفع بالزیادة والمشتری ینتفع بالمهلة، وقد ثبت فی الصحیحین عن عائشة رضی الله تعالی عنها أن بریرة رضی الله تعالی عنها باعها أهلها بالتقسیط تسع سنوات، لکل سنة أربعون درهماً، فدل ذلک علی جواز بیع التقسیط، ولأنه بیع لا غرر فیه ولا ربا ولا جهالة، فکان جائزاً کسائر البیوع الشرعیة إذا کان المبیع فی ملک البائع وحوزته حین البیع۔(ص:۳۱۹، حکم البیع بالتقسیط والأجل)
