مسئلہ:
لفظِ ”خدا“ فارسی زبان کا لفظ ہے، جو کسی حد تک واجب الوجود کا ترجمہ ہے، اللہ رب العزت کے لیے اس کا استعمال اکابرِامت سے چلا آرہا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا استعمال جائز ہے، لیکن چوں کہ یہ لفظ ،” اللہ“(اسمِ ذات) کا نہ نعم البدل ہے، اور نہ اس کے برابر، اس لیے اللہ کی پاک ذات کے لیے اس کا اسمِ ذات ” اللہ“ کا استعمال سب سے بہتر ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” روح المعاني “ : أسماء الله تعالی توقیفیة یراعی فیها الکتاب والسنة والإجماع، فکل إسم ورد في هذه الأصول جاز إطلاقه علیه جلّ شانه، وما لم یرد فیها لا یجوز إطلاقه وإن صحّ معناه۔ اه ۔ (۱۷۷/۶، تحت آیة الأعراف: ۱۸۰، تفسیر المظهري: ۴۶۶/۳، مکتبه زکریا بکڈپو دیوبند)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۱۶۲۹)
