مسئلہ:
اچھا یہ ہے کہ آدمی سیدھے ہاتھ سے لکھے، مگر کچھ لوگ کوشش کے باوجود اس میں کامیاب نہیں ہوتے، ان کا سیدھا ہاتھ لکھنے میں کام نہیں کرتا، اس پر دوسرے لوگ اسے یہ کہتے ہیں کہ آپ اُلٹے ہاتھ سے اللہ ، رسول، حضرات صحابہ اور بزرگ ہستیوں کے نام لکھتے ہو، یہ گناہ ہے، ان کا یہ قول صحیح نہیں ہے، کیوں کہ سیدھے ہاتھ سے لکھنے میں معذوری ہو تو اُلٹے ہاتھ سے لکھنا مجبوری ہے، اور مجبوری کی صورت میں اُلٹے ہاتھ سے لکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” قواعد الفقه “ : قال السید: العذر ما یتعذر علیه المعنی علی موجب الشرع إلا یتحمل ضرر زائد۔
(ص:۳۷۵، التعریفات الفقهیة، العذر، معجم المصطلحات والألفاظ الفقهیة: ۴۸۵/۲، العُذر)
(آپ کے مسائل اور ان کاحل:۱۳۷/۸، تخریج مفتی سعید صاحب جلالپوری)
