امام کیسا شخص ہونا چاہیے؟

(فتویٰ نمبر: ۲۴۳)

سوال :

کسی دیہات والے نماز کے لیے اما م صاحب رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں، مگر وہ امام نہیں رکھتے، جب کہ امام بھی رہنے کے لیے تیار ہے، اور کوئی بھی جاہل آگے بڑھ کر نماز پڑھادیتا ہے، ایسی صورت میں ان کی نماز درست ہوگی یا نہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

امام ایسا شخص ہونا چاہیے جس میں امامت کی اہلیت ہو، یعنی وہ فاسق وفاجر نہ ہو (۱)، قرآنِ کریم صحیح پڑھنا جانتا ہو، مسائلِ نماز سے خوب واقف ہو، اگر جاہل شخص فرائض وواجبات اور سنن وآداب کا پاس ولحاظ رکھ کر امامت کرتا ہے، تو نماز بلا کراہت درست ہوجائے گی (۲)،اور اگر وہ فرائض وواجبات کا تو لحاظ رکھتا ہے، مگر سنن وآداب کی رعایت نہیں کرتا ،تو نماز کراہت کے ساتھ درست ہوجائے گی۔(۳)

رہی یہ بات کہ گاوٴں والے استطاعت کے باوجود مسائلِ نماز سے واقف شخص کا انتظام نہیں کرتے، تو ان کا یہ عمل امورِ دینیہ میں لاپرواہی وبے اعتنائی ہے ،جو اچھی بات نہیں ہے۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویکره إمامة عبد ۔۔۔۔۔ وفاسق ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (وفاسق) من الفسق وهو الخروج عن الاستقامة ، ولعل المراد من یرتکب الکبائر ۔(۲۵۵/۲ ، کتاب الصلاة ، مطلب في تکرار الجماعة في المسجد)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والأحق بالإمامة تقدیمًا بل نصبًا ۔ مجمع الأنهر ۔ الأعلم بأحکام الصلاة فقط صحة وفسادًا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة ۔۔۔۔۔ ثم الأحسن تلاوة وتجویدًا للقراء ة، ثم الأورع ۔ (۲۵۱/۲، کتاب الصلاة، مطلب في تکرار الجماعة في المسجد)

(۳) ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : ترک السنة لا یوجب فسادًا ولا سهوًا ، بل إساء ة لو عامدًا غیر مستخف، وقالوا : الإساء ة دون من الکراهة ” در“ أي التحریمة ۔(ص/۲۵۶ ، کتاب الصلاة ، فصل في بیان سننها، ط: شیخ الهند دیوبند)

(۴) ما في”الموسوعة الفقهیة “:المراد في قوله تعالی:﴿وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِِرَ اللَّه فَإِنَّها مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ﴾ تعظیمها وأداؤها علی الوجه المطلوب شرعًا ۔۔۔۔۔یجب علی المسلمین إقامة شعائرالإسلام الظاهرة،وإظهارها فرضًاکانت الشعیرة أم غیر فرض؛ لأن ترک شعائر اللّٰه یدل علی التهاون في طاعة اللّٰه واتباع أوامره۔(۹۸/۲۶ ،شعائر) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۷/۱۴ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔