مسئلہ:
رسولوں، انبیاء اور حضرات صحابہٴ کرامؓ کے کارٹون (Cartoon) یعنی خیالی تصویریں بنانا شرعاً ناجائز ہے(۱)، کیوں کہ اس پر بہت سے مفاسدِ شرعیہ مرتب ہوتے ہیں(۲)، اور اس کے ناجائز ہونے پر کبارِ علماء عرب کی قرار داد بھی موجود ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” فقه النوازل “ : لا یجوز شرعاً تخییل شخص النبی ﷺ بالصور للمتحرکة أو الثابتة، کل ذلک حرام لا یحل لأی غرض من الأغراض، وکذا سائر الرسل والأنبیاء والصحابة الکرام۔(۳۲۰/۴، الباب السابع، الفن والریاضة ، الفصل الثانی، الأناشید والتمثیل، المبحث الثانی، حکم تمثیل وتصویر الأنبیاء والصحابة، وثیقة رقم: ۲۹۹)
(۲) ما فی ” القواعد الکلیة والضوابط الفقهیة “ : درء المفاسد أولی من جلب المصالح۔ (ص: ۱۸۲)
ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : کل ما أدی إلی ما لا یجوز لا یجوز۔ (۵۱۹/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی اللبس)
