مسئلہ:
حضرت یوسف علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی زندگی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اُن پر ویڈیو فلمیں بنائی گئیں، اُن میں حضرات انبیاء کی فرضی تصویریں بھی ہیں(۱)، میوزک بھی ہے(۲)، اور فرضی ومَن گھڑت حالاتِ زندگی بھی، بہت سے لوگ اِن ویڈیو فلموں کو دیکھتے ہیں، اور اُس کونہ صرف بڑا اچھا کام سمجھتے ہیں، بلکہ فخریہ انداز میں اسے بیان بھی کرتے ہیں کہ فلاں رات یا فلاں وقت ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کی ویڈیو فلم دیکھی، اُن کو معلوم ہونا چاہیے کہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کی اس طرح فرضی ویڈیو فلمیں بنانا اور انہیں دیکھنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح مسلم “ : عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ” إن أشدّ الناس عذابًا یوم القیامة المصوّرون “۔
(۲۰۱/۲، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم تصویر صورة الحیوان، رقم الحدیث:۲۱۰۹)
ما في ” تفسیر القرطبی “ : یدل علی المنع من تصویر شيء أي شيء کان۔(۲۷۴/۱۲، الدر المختار مع الشامیة:۵۱۹/۹، الحظر والإباحة، فصل في اللبس)
ما في ” فقه النوازل “ : لا یجوز شرعًا تخییل شخص النبي ﷺ بالصور المتحرکة أو الثابتة، کل ذلک حرام لا یحل لأي غرض من الأغراض، وکذا سائر الرسل والأنبیاء والصحابة الکرام۔ (۳۲۰/۴، الفن الریاضة، الفصل الثاني؛ الأناشید والتمثیل، المبحث الثاني؛ حکم تمثیل وتصویر الأنبیاء والصحابة، رقم الوثیقة:۲۹۹)
(۲) ما في ” نیل الأوطار للشوکاني “ : عن أبي هریرة أن النبي ﷺ قال: ” استماع الملاهي معصیة، والجلوس علیها فسقٌ، والتلذذ بها کفر “۔
(۱۰۴/۸، أبواب السبق والرمي، باب ما جاء في آلة اللهو، تحت رقم الحدیث:۳۵۵۳)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قلت: وفي ” البزازیة “: استماع صوت الملاهي کضرب قصب ونحوه حرام، لقوله علیه السلام: استماع الملاهي معصیة، والجلوس علیها فسق، والتلذذ بها کفر ۔۔۔۔ فالواجب کل الواجب أن یجتنب کي لا یسمع لما روی علیه السلام أدخل اصبعه في أذنه عند سماعه۔
(۵۰۴/۹، کتاب الحظر والإباحة، قبیل فصل في اللبس، ط؛ بیروت)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۸۲۴۶)
