انتقاماً سامنے والے کا جوابی فون ریسیو نہ کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ اپنی ضرورت سے کسی کو فون لگاتے ہیں، جسے فون لگایا گیا وہ اپنی مصروفیت، مشغولیت یا کسی مصلحت کی وجہ سے فون نہیں اٹھاتا، گھنٹی بج بج کر بند ہوجاتی ہے، اور کال ، مِس کال ہوجاتی ہے، تو یہ فون لگانے والا شخص اس قدر ناراض ہوجاتا ہے کہ جب سامنے والے شخص کا جوابی فون آتا ہے، تو یہ بھی ناراضگی کے اظہار میں یا انتقاماً ، اس کا فون ریسیو نہیں کرتا، شرعاً یہ رویہ اسلامی اخلاق کے خلاف ہے، کیوں کہ جب شریعت نے دور سے ملنے آنے والے شخص سے ملنا اہلِ خانہ پر لازم نہیں کیا، تو فون پر رابطہ کرنے والے کی کال ریسیو کرنا بطریقِ اولیٰ لازم نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الذین اٰمنوا لا تدخلوا بیوتاً غیر بیوتکم حتی تستأنسوا وتسلِّموا علی أهلها، ذلکم خیر لکم لعلکم تذکّرون، فإن لم تجدوا فیهآ أحدًا فلا تدخلوها حتی یوٴذن لکم، وإن قیل لکم ارجعوا فارجعوا هو أزکی لکم، والله بما تعملون علیم﴾۔ (سورة النور:۲۷-۲۸)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : حُظِر الدخول إلا بالإذن ، فدل علی أن الإذن مشروط في إباحة الدخول ۔۔۔۔ ویدل علی أن للرجل أن ینهی من لا یجوز له دخول داره عن الوقوف علی باب داره أو القعود علیه، لقوله تعالی: ﴿وإن قیل لکم ارجعوا فارجعوا هو أزکی لکم﴾۔(۴۰۴/۳-۴۰۶)

ما في ” السنن لأبي داود “ : عن أبي موسی أنه أتی عمر فاستأذن ثلاثاً ، فقال: یستأذن أبوموسی یستأذن الأشعري، یستأذن عبد الله بن قیس ، فلم یأذن له فرجع، فبعث إلیه عمر ما ردک؟ قال: قال رسول الله ﷺ: ” یستأذن أحدکم ثلاثاً، فإن أذن له وإلا فلیرجع “۔ قال: ائتني ببینة علی هذا، فذهب ثم رجع فقال: هذا أبيّ، فقال أبيّ: یا عمر! لا تکن عذاباً علی أصحاب رسول الله ﷺ فقال عمر: لا أکون عذاباً علی أصحاب رسول اللهﷺ۔(ص:۷۰۴، کتاب الأدب، باب کم مرة یسلم الرجل في الاستیذان)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : من استأذن فأذن له دخل وإن لم یؤذن له فلینصرف، ولا یُلَحُّ بالاستیذان، ولا یتکلم بقبیح الکلام، ولا یقعد علی الباب لینتظر، لأن للناس حاجات وأشغالاً في المنازل۔ (۱۵۲/۳)

ما في ” قواعد الفقه “ : ترک الإحسان لا یکون إساءة۔ (ص:۷۰، رقم المادة: ۸۲)

اوپر تک سکرول کریں۔