انگریزی اور ہندی وغیرہ سیکھنے کا حکم شرعی

مسئلہ:

زبانیں اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی ہیں، اور دلی باتوں کے اظہار کا ذریعہ ہیں، کوئی بھی زبان اپنے آپ میں مذموم وبری نہیں ہے، اب یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اپنے جائز کاموں کیلئے استعمال کرتا ہے، یا ناجائز کاموں کیلئے، صرف اس وجہ سے کوئی زبان مذموم وناپسندیدہ نہیں ہوتی کہ اس کو بولنے والے زیادہ تر غیر مسلم ہیں، چنانچہ رسول اللہا نے حضرت زید بن ثابت کو عبرانی زبانی سیکھنے کا حکم دیا تھا، جبکہ عبرانی زبان یہودیوں کی زبان تھی، اس لیے اگر کوئی شخص انگریزی، ہندی، مراٹھی اور سنسکرت وغیرہ زبان سیکھتا ہے، اور ان زبانوں کو سیکھنے کا مقصد محض ان سے واقفیت یا ان کے ذریعہ کسبِ معاش میں آسانی وسہولت پیش نظر ہے تو ان کا سیکھنا جائز ہے، اور اگر یہ مقصد ہو کہ ان زبانوں کو سیکھ کر اسلام کی دعوت دوں گا، یا ان زبانوں میں اسلامی تعلیمات کو عام کروں گا، تو اس صورت میں ان زبانوں کا سیکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب وباعثِ اجر و ثواب بھی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ومن آیاته خلق السموات والأرض واختلاف ألسنتکم وألوانکم﴾۔ (سورة الروم :۲۲)

ما فی ” روح المعانی “ : (واختلاف ألسنتکم) أي لغاتکم بأن علم سبحانه کل صنف لغته أو ألهمه جل وعلا وضعها وأقدره علیها فصار بعض یتکلم بالعربیة وبعض بالفارسیة وبعض بالرومیة إلی غیر ذلک مما الله تعالی أعلم بکمیته ۔ (۴۸/۱۲، سورة الروم:۲۲)

ما فی ” جامع الترمذی “ : عن خارجة بن زید بن ثابت عن أبیه زید بن ثابت قال: ” أمرني رسول الله ﷺ أن أتعلم له کلمات من کتاب یهود قال: إنی والله ما آمن یهود علی کتابی، قال: فما مر بی نصف شهر حتی تعلمته له، قال: فلما تعلمته کان إذا کتب إلی یهود کتبت إلیهم وإذا کتبوا إلیه قرأت له کتابهم “۔ (۱۰۰/۲، أبواب الاستیذان، باب ما جاء فی تعلیم السریانیة)

ما فی” مرقاة المفاتیح “ : فیه دلیل علی جواز تعلم ما هو حرام فی شرعنا للتوقی والحذر عن الوقوع فی الشر، کذا ذکره الطیبی فی ذیل کلام المظهر وهو غیر ظاهر، إذ لا یعرف فی الشرع تحریم تعلم لغة من اللغات سریانیة أو عبرانیة أو هندیة أو ترکیة أو فارسیة، وقد قال تعالی:﴿ومن آیاته خلق السموات والأرض واختلاف ألسنتکم﴾ أي لغاتکم بل هو من جملة المباحات، نعم یعد من اللغو ما لا یعنی وهو مذمومة عند أرباب الکمال إلا إذا ترتب علیه فائدة، فحینئذٍ یستحب کما یستفاد من الحدیث۔(۴۷۷/۸، رقم الحدیث: ۴۶۵۹، کتاب الآداب، باب السلام، الفصل الثانی)

ما فی” قواعد الفقه “: الأصل في الأشیاء الإباحة حتی یدل الدلیل علی عدم الإباحة۔(ص:۵۹، رقم القاعدة:۳۳، الأشباه والنظائر لإبن نجیم:ص۲۵۲/۱)

ما فی ” الأشباه والنظائر “ : الأمور بمقاصدها۔ (۱۱۳/۱)

(فتاوی عبد الحی اللکنویؒ:ص۵۵۰)

اوپر تک سکرول کریں۔