مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اوقاتِ مکروہہ میں جس طرح نماز پڑھنا درست نہیں ، ایسے ہی طواف کرنا بھی درست نہیں ہے، اُن کا یہ خیال درست نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اوقاتِ مکروہہ میں طواف کرنا جائز ودرست ہے(۱)، لیکن دوگانہٴ طواف یعنی طواف کی دورکعت مکروہ وقت کے ختم ہوجانے کے بعد پڑھے، مثلاً نماز فجر کے بعد طواف کرے تو طلوع آفتاب کے تقریباً بیس منٹ بعد دوگانہٴ طواف ادا کرے، اوراگر زوال کے وقت طواف کرے ، تو بعد زوال دوگانہ ادا کرے، اور اگر عصر کے بعد طواف کرے تو مغرب کے فرض کے بعد سنتوں سے پہلے دوگانہٴ طواف ادا کرے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” البحر الرائق “ : وأطلق الطواف فأفاد أنه لا یکره في الأوقات التي تکره الصلاة فیها، لأن الطواف لیس بصلاة حقیقة۔
(۵۷۷/۲، کتاب الحج، باب الإحرام، النهر الفائق:۷۵/۲، کتاب الحج، باب الإحرام)
(۲) ما في ” إرشاد الساري إلی مناسک الملا علي القاري “ : تختص بوقوعها عقیبَ الطواف إن لم یکن وقت کراهة۔ (ص:۲۱۹)
ما في ” مجمع الأنهر “ : ثم یصلي في وقت یباح فیه التطوع رکعتین عند المقام۔ (۴۰۳/۱، کتاب الحج)
ما في ” الدر المنتقی في شرح الملتقی “ : ویکره أن یوالي بین أسبوعین، ولا یصلي بینهما الرکعتین، ولا لعذر کوقت الکراهة، ومفاده جواز الطواف فیما تکره فیه الصلاة کما في الخانیة۔ (۴۰۳/۱، کتاب الحج)
(مسائلِ حج :ص/۹۷)
