اولاد کے لیے بہترین تحفہ حسنِ ادب وتربیت

مسئلہ:

حدیث پاک میں آیا ہے کہ والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین تحفہ حسنِ ادب اور اچھی تربیت ہے، آج کے اِس ترقی یافتہ دور میں موبائل فون، انٹرنیٹ، کیبل ٹی وی نے ہر گھر میں ڈیرہ ڈال دیا ہے، جس سے نوجوان نسل میں فحاشی ، عریانیت اور عصمت دری وبے حیائی بڑے زوروں پر منتقل ہورہی ہے، حکومتیں اس کے خلاف قوانین بنارہی ہیں، اس کے باوجود بے ہودگی اور غیر انسانی وغیر اخلاقی کا یہ سیلاب تھمتا دکھائی نہیں دیتا، ایسے حالات میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بچوں کو اچھے اخلاق کی تعلیم دینا، اور ان کی اچھی تربیت کرنا والدین کے حق میں محض مستحب نہیں بلکہ فرض ہے، جس کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی حرکات وسکنات پر نظر رکھیں، انہیں اخلاقی درس دیا کریں، اور یہ بات بھی مسلّم ہے کہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم بھی دیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح البخاری “ : وقال مجاهد: ﴿قوا أنفسکم وأهلیکم﴾ أوصوا أنفسکم وأهلیکم بتقوی الله وأدّبوهم۔

(ص:۹۰۰ ، باب قوله: أن تتوبا إلی الله فقد صغت قلوبکما، بیروت، معارف القرآن:۵۰۳/۸)

ما في ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن عمر – رضي الله عنهما – یقول: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” کلکم راع، وکلکم مسؤول عن رعیته، الإمام راع ومسوٴول عن رعیته، والرجل راع في أهله وهو مسوٴول عن رعیته، والمرأة راعیة في بیت زوجها ومسؤولة عن رعیتها، والخادم راع في مال سیده ومسؤول عن رعیته “۔

(ص:۱۶۹، رقم :۸۹۳، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القری والمدن، بیروت، صحیح مسلم:۴۶۰/۶، رقم: ۱۸۲۹، کتاب الإمارة، باب فضیلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث علی الرفق بالرعیة الخ، بیروت)

ما في ” اعلاء السنن “ : تزکیة الأخلاق من أهم الأمور عند القوم ۔۔۔۔۔۔ فکما أن العلم بالتعلّم من العلماء کذلک الخلق بالتخلق علی ید العرفاء فالخلق الحسن صفة سید المرسلین۔ (۴۷۷/۱۸، کتاب الأدب)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي القنیة: له إکراه طفله علی تعلم قرآن وأدب وعلم لفریضته علی الوالدین۔ (۱۳۰/۶، کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب في تعزیر المتهم)

اوپر تک سکرول کریں۔