اوپن اسپیس(Open Space) کی جگہ مسجد میں شامل کرنا

مسئلہ:

جب پرانی مسجد شہید کرکے نئی تعمیر ہورہی ہو، یا کسی مسجد کی توسیع کی جارہی ہو، تو اوپن اسپیس(Open Space) یعنی آس پاس کی سرکاری جگہ – سرکار کی اجازت کے بغیر مسجد اور اس کے متعلقات ، یعنی وضوخانہ، طہارت خانہ وغیرہ کی تعمیرات میں شامل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے(۱)، کیوں کہ شریعت ہمیں دوسرے کی مِلک میں اُس کی اجازت کے بغیر تصرُّف سے منع کرتی ہے(۲)، نیز اس طرح کا عمل آئندہ فتنہ وفساد کا سبب بھی بنتا ہے، اور وہ اس طرح کہ سرکار اس غیر قانونی عمارت کو منہدم کریگی(۳)، تومسلمانوں میں یہ شور بَپا ہوگا کہ – سرکار نے مسلمانوں کی مسجد منہدم کردی، جب کہ حقیقتاً وہ جگہ نہ تو مسجد کی ہے اور نہ مسجد کی مِلک ہے۔ہم مسلمان ہیں، ہمارے لیے دوسرے کی مِلک میں اس کی اجازت کے بغیر تصرُّف کرنے کی اجازت ہے، اور نہ کسی ایسے کام کی جو فتنہ وفساد کا سبب بنے۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : المسجد في اللغة: بیت الصلاة، وموضع السجود من بدن الإنسان والجمع مساجد۔ وفي الاصطلاح: ۔۔۔۔ البیوت المبنیة للصلاة فیها لله فهي خالصة له سبحانه ولعبادته۔ (۱۹۴/۳۷)

ما في ” الشامیة “ : قال في البحر: وحاصله أن شرط کونه مسجدًا أن یکون سفله وعلوه مسجدًا لینقطع حق العبد عنه لقوله تعالی: ﴿وأن المساجد لله﴾۔

(الجن : ۱۸) (۵۴۷/۶، کتاب الوقف، ط: بیروت)

(۲) ما في ” درر الحکام “ : لا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي۔

قد قیدت هذه المادة بقوله ” بلا سبب شرعي “ لأنه بالأسباب الشرعیة کالبیع، والإجارة، والهبة، والکفالة، والحوالة یحق أخذ مال الغیر۔(۹۸/۱، المادة: ۹۸)

(۳)ما في ” شرح المجلة لسلیم رستم باز “ : کل یتصرف فی ملکه کیفما شاء۔ (ص:۶۵۴، رقم المادة:۱۱۹۲)

(۴) ما في ” الشامیة “ : ” ما کان سببًا لمحظور فھو محظور “۔ (۲۲۳/۵، مکتبه نعمانیه)

ما في ” الأصول والقواعد للفقه الإسلامي “ : ﴿دَرْءُ الْمَفَاسِدِ أوْلیٰ مِنْ جَلْبِ الْمَنَافِعِ﴾۔

(ص:۱۷۱، رقم القاعدة:۱۴۴، الأشباه والنظائر لإبن نجیم: ص/۳۲۲، درر الحکام:۴۱/۱، المادة:۳۰، قواعد الفقه: ص/۸۱، القاعدة: ۱۳۳، جمهرة القواعد الفقهیة: ۷۳۳/۲، رقم القاعدة:۸۹۱، ترتیب اللآلي: ص/۶۹۱، القواعد الفقهیة: ص/۱۷۰، شرح القواعد:ص/۲۰۵، القواعد الکلیة: ص/۱۸۲)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند ، رقم الفتویٰ :۴۲۳۶۱)

اوپر تک سکرول کریں۔