اُدھار کی بیع میں دو قیمتیں اور ان کا شرعی حکم !

(فتویٰ نمبر: ۱۰)

سوال:

ایک ہو ل سیلر (Wholesalor) ہے جو اُدھار مال فروخت کرتا ہے، اور ابھی جو بل بنایا ہے اس میں ہر نگ کے پیچھے پانچ روپے زائد لگاتا ہے اور اُدھاری کی مدت ڈیڑھ سے دو ماہ کی ہے، اگر اس مدت میں خریدار پیمینٹ (Payment) دیتا ہے، تو وہ ہر نگ کے پیچھے جو زائد پانچ روپے لگائے گئے ہیں اس کو کم کردیتا ہے، اور اگر خریدار پیمینٹ (Payment) دو ماہ کے بعد دیتا ہے، تو وہ ہر نگ کے پیچھے پانچ روپے جو بل میں زائد ہے وہ بھی وصول کرتا ہے، اور وہ ہول سیلر (Wholesalor) خریدار کو اس نوعیت سے پہلے ہی متنبہ کردیتا ہے، تو ہول سیلر کا اس طریقے سے تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

نوٹ-: اگر خریدار اُدھاری کی اس مدت میں پیمینٹ (Payment) نہیں دیتا، تو اس سے اس پانچ روپے سے زائد کا مطالبہ نہیں ہوتا۔

الجواب وباللہ التوفیق:

بیع کی جوصورت سوال میں مذکور ہے، شرعاً صحیح نہیں ہے، ہاں! اگر مجلسِ عقد ہی میں نقد یا اُدھار کا معاملہ صاف ہوجائے کہ خریدار ی نقد ہے یا اُدھار؟ اگر نقد ہے تو قیمت مثلاً”150“ اور اگر اُدھار ہے تو ”155“۔اُدھار کی صورت میں ادائیگیٴ قیمت کے لیے مدت متعین کرلی جائے اور اس مدت میں عدمِ ادائیگی کی صورت میں قیمت میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے، تو یہ بیع صحیح ہے اور اگر اضافہ کیاگیا، تو سود ہے اور سودی معاملہ حرام ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” جامع الترمذي “ : ” نھی رسول اللّٰه ﷺ عن بیعتین في بیعةٍ “ ۔ (۲۳۳/۱)

ما في ” المبسوط للسرخسي “ : وإذا عقد العقد ۔۔۔۔۔۔ أو قال : ۔۔۔۔ إلی شهر بکذا أو إلی شهرین بکذا فهو فاسد ۔

(۸/۱۳ ، الدر المختار مع الشامیة : ۳۶۲/۷ ، تبیین الحقائق : ۴۳۳/۴) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۲/۱ھ

الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۸/۱۲/۱ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔