مسئلہ:
ماں باپ اپنی اولاد کو بڑے ناز ونِعَمْ سے پرورش کرتے ہیں، اُن کی راحت کے لیے ہر تکلیف سہتے ہیں، ہر ماں باپ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد کی زندگی اچھی گزرے، مگر جب اولاد ماں باپ کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں، اُن کے لاڈ وپیار کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں، اور وہ کام کرجاتے ہیں جن کی اُن سے امید نہیں کی جاسکتی ، تب ماں باپ کا غصہ اُن کی محبت پر غالب آجاتا ہے، اور وہ انتہائی قدم اُٹھا کر خود اپنے ہاتھوں ممتا کا گلا گھونٹ دیتے ہیں، اور اپنی ہی اولاد کے قتل کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنی اولاد کو ختم کرکے جینا اتنا آسان نہیں، چاہے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو یا گھر کی چہار دیواری میں ، زندگی کی اِن کٹھِن گھڑیوں سے بچنا اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنی اولاد کو اچھی تعلیم ، اچھی تربیت اور اچھی صحبت دیں، جس کی اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ نے ہر ماں باپ کو تاکید فرمائی ہے، اور حضراتِ فقہاء کرام نے ہر ماں باپ پر اس کو فرض قرار دیا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” صحیح البخاری “ : وقال مجاهد: ﴿قوا أنفسکم وأهلیکم﴾ أوصوا أنفسکم وأهلیکم بتقوی الله وأدّبوهم۔
(ص:۹۰۰ ، باب قوله: أن تتوبا إلی الله فقد صغت قلوبکما، بیروت، معارف القرآن:۵۰۳/۸)
ما في ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن عمر – رضي الله عنهما – یقول: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” کلکم راع، وکلکم مسوٴول عن رعیته، الإمام راع ومسؤول عن رعیته، والرجل راع في أهله وهو مسؤول عن رعیته، والمرأة راعیة في بیت زوجها ومسؤولة عن رعیتها، والخادم راع في مال سیده ومسؤول عن رعیته “۔
(ص:۱۶۹، رقم :۸۹۳، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القری والمدن، بیروت، صحیح مسلم:۴۶۰/۶، رقم: ۱۸۲۹، کتاب الإمارة، باب فضیلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث علی الرفق بالرعیة الخ، بیروت)
ما في ” اعلاء السنن “ : تزکیة الأخلاق من أهم الأمور عند القوم ۔۔۔۔۔۔۔۔ فکما أن العلم بالتعلّم من العلماء کذلک الخلق بالتخلق علی ید العرفاء فالخلق الحسن صفة سید المرسلین۔ (۴۷۷/۱۸، کتاب الأدب)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي القنیة: له إکراه طفله علی تعلم قرآن وأدب وعلم لفریضته علی الوالدین۔ (۶/۱۳۰، کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب في تعزیر المتهم)
