اگر کسی کو حج کا ویزا نہ ملے

مسئلہ

اگر کوئی شخص صاحبِ استطاعت اور صحت مند وتندرست بھی ہو، لیکن کوشش کے باوجود اسے حج کا ویزا نہ مل پائے، تو اس کے حق میں وجوبِ ادا کی شرط نہیں پائی جائے گی، اور اس بناء پر حج میں تاخیر کا گناہ بھی نہ ہوگا، تاہم اس پر لازم ہے کہ وہ ہرسال ویزے کی کوشش کرتا رہے، اور زندگی سے مایوس ہونے کے وقت اپنی طرف سے حج کی وصیت کرے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” حاشیة الطحطاوي علی مراقی الفلاح “ : وشرط وجوب الأداء صحة البدن وزوال المانع الحسی عن الذهاب کالحبس وکذا یشترط أن لا یکون خائفاً من سلطان یمنعه۔(ص: ۷۲۸، الشامیة : ۳۳/۸، کتاب القضاء، مطلب فی الکلام علی الرشوة والهدیة)

ما فی ” تبیین الحقائق “ : وإنما اشترط دوام العجز لأنه فرض العمر فیعتبر عجز مستوعب لبقیة العمر لیقع به الیأس عن الأداء بالبدن، حتی لو احج عن نفسه وهو مریض یکون مراعی، فإن مات به أجزاه وإن تعافی بطل، وکذا لو أحج عن نفسه وهو محبوس۔(۴۲۴/۲، فتح القدیر:۱۳۴/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔