ایامِ اضحیہ میں قربانی نہ کرسکا تو قربانی کی قیمت صدقہ کردے

مسئلہ:

اگر قربانی کے دن گزر گئے اور نا واقفیت یا غفلت یا کسی عذر کی بنا پر قربانی نہیں کر سکا تو قربانی کی قیمت فقراء ومساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے، لیکن قربانی کے دنوں میں جانور کی قیمت صدقہ کردینے سے واجب قربانی ادا نہیں ہوگی اوروہ آدمی گنہگار ہوگا، کیوں کہ قربانی ایک مستقل عبادت ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ردالمحتار علی الدرالمختار‘‘: ولو ترکت التضحیة ومضت أیامھا تصدق بھا حیّة وإن لم یشتر مثلھا  حتی مضت أیامھا تصدق بقیمتھا لأن الإراقة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص۔(۳۸۸/۹ ، الفتاوی الھندیة:۲۹۴/۱،کتاب الأضحیة، الباب الأول، بدائع الصنائع:۶۸/۵، أما کیفیة الوجوب)

ما في ’’المحیط البرهاني‘‘: وفي الأضاحي للزعفراني: إذا اشتری أضحیة فأوجبھا ثم باعھا ولم  یضح ببدلھا حتی مضی أیام النحر تصدق بقیمتھا التي باع فإن لم یبعھا حتی مضت أیام النحرتصدق بها حیة فإن ذبحها وتصدق بلحمها جاز فإن کان قیمتھا حیة أکثر تصدق بالفضل ولو أکل منھا شیئا غرم  قیمته لأنه فوت المبدل فیجب علیه البدل ۔ 

(۴۷۷/۶، الفصل الرابع فیما یتعلق بالمکان والزمان)

اوپر تک سکرول کریں۔