(فتویٰ نمبر: ۱۸۹)
سوال:
۱-اگر کوئی عورت حج کو گئی ،وہاں پر اس کو ایامِ حج ہی میں حیض آنا شروع ہوگیا، تو وہ کیا کرے گی؟
۲-کیا وہ میڈیکل لائن(Medical Line) کے اسپیشلسٹ (Specialist)ڈاکٹروں کی مدد سے حیض کو اتنے دن رکا سکتی ہے؟ لیکن یہ اس کی صحت کے واسطے مضر ہوگا اور شریعتِ مطہرہ میں اس کی اجازت نہیں۔
۳-نیز ایامِ حج کتنے ہیں؟
۴-کتنے ایام میں حج کے فرائض کو ادا کیا جاتا ہے؟
۵-ساتھ ہی اس کی حکمتیں بھی بتلائیں ،عین کرم ہوگا، اسی طرح عورت کو حیض کیوں اور کس وجہ سے آتا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-اگر عورت کو ایامِ حج میں حیض آجائے،تو وہ تمام مناسکِ حج، وقوفِ عرفہ ، مزدلفہ اور رَمیِ جمار وغیرہ سب کرسکتی ہے، کیوں کہ ان مناسک کے لیے پاکی شرط نہیں ہے، ہاں! طواف زیارت نہیں کرسکتی، کیوں کہ اس کے لیے پاکی شرط ہے، طوافِ زیارت کو موٴخر کرے،اور پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت کرے۔(۱)
۲-اس عورت کے لیے پاک ہونے تک طوافِ زیارت موٴخر کرنے کی رخصت وگنجائش ہے(۲)، تو حیض کو رُکوانے کے لیے دوا لینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر وہ کوئی دوا استعمال کرتی ہے، تو شرعاً اسے اس کی اجازت ہے۔(۳)
۳-ایامِ حج پانچ ہیں: ۱۳/۱۲/۱۱/۱۰/۹ ذی الحجہ ۔(۴)
۴-انہی پانچ ایام میں مناسکِ حج انجام دِیے جاتے ہیں۔(۵)
۵-حج کی حکمتیں معلوم کرنے کے لیے آپ مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں :
(۱)حجة اللہ البالغة“موٴلفہ،حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ
(۲)” ارکانِ اربعہ“موٴلفہ، مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمة اللہ علیہ
(تنبیہ:سوال نمبر ۵ میں حیض کی وجہ اور حکمت بھی دریافت کی گئی ہے، جب کہ جواب میں صرف حج کی حکمت کا ذکر ہے۔ فلیراجع۔۔۔ ع م)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : لا خلاف بین الفقهاء في أن الحیض لا یمنع شیئًا من أعمال الحج إلا الطواف لقول النبي ﷺ لعائشة – رضي اللّٰه عنها – حین حاضت : ” افعلي ما یفعل الحاج غیر أن لا تطوفي بالبیت “ ۔ (۳۲۰/۱۸)
(۲) ما في ” الجوهرة النیرة “ : إذا أخر طواف الزیارة وعندهما لا شيء علیه ، وهذا إذا کان بغیر عذر في تأخیر طواف الزیارة ، أما إذا کانت المرأة حائضًا أو نفساء فطهرت بعد مضي أیام النحر فلا شيء علیها، وهذا إذا حاضت من قبل أیام النحر ۔ (۴۱۰/۱)
ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : طواف الإفاضة وهو ما بعد طلوع من النحر إلی آخر العمر والواجب فعله أیام النحر ۔ (ص/۷۲۹ ، کتاب الحج)
(۳) ما في ” الأشباه والنظائرلإبن نجیم “ : الضرورات تبیح المحظورات ۔ (۳۰۷/۱)
(کتاب الفتاویٰ:۱۱۰/۴)
(۴) ما في ” خلاصة الفتاوی “ : ویکره أداء العمرة في خمسة أیام : یوم عرفة ویوم النحر وأیام التشریق ؛ لأنها وقت الحج ۔ (۲۷۶/۱)
(۵) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فرضه ثلاثة : الإحرام والوقوف بعرفة في أوانه ، وهو من زوال یوم عرفة إلی قبیل طلوع فجر النحر وطواف الزیارة ۔ (در مختار) ۔
(۴۱۵/۳ ، کتاب الحج) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۲۶ھ
