بائیں ہاتھ سے کسی کو پیسہ دینا

مسئلہ:

بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ کسی کو پیسہ دیتے وقت بائیں ہاتھ سے دینا چاہیے، اور لیتے وقت دائیں ہاتھ سے لینا چاہیے، شرعِ اسلامی میں اِس کی کوئی اصل نہیں ہے، اگر کوئی عذر نہ ہو تو لینا دینا- دونوں ہاتھ سے کرسکتے ہیں، البتہ نیک اور اچھے کام کے لیے داہنے ہاتھ کا استعمال آپ ﷺ کی عادتِ شریفہ تھی، جسے اپنانا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” سنن أبی داود “ : عن عائشة قالت: ” کانت ید رسول الله ﷺ الیُمنی لطهوره وطعامه، وکانت یده الیُسری لخلائه، وما کان من أذی “۔ (ص:۵)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : یستحب تقدیم الیمین علی الیسار في کل ما هو من باب التکریم، کالوضوء والغسل، ویستحب تقدیم الیسار علی الیمین في کل ما کان من باب الإهانة والأذی۔ (۲۹۲/۴۵)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۴۱۸۵۲)

اوپر تک سکرول کریں۔