بارش اور ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کی ہوئی زمین کی پیداوار پر عشر

مسئلہ:

جس زمین کی آب پاشی کی جاتی ہے، یا محنت کرکے کنویں وغیرہ سے پانی دیا جاتا ہے، اس کی پیداوار میں نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہے، اور جس زمین میں بارش کے پانی سے کھیتی ہوتی ہے، اور مستقل پانی دینا نہیں پڑتا، اس کی پیداوار میں عشر یعنی پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہے(۱)، لیکن اگر زمین ایسی ہے کہ اس کی سینچائی اکثر بارش کے پانی سے ہی ہوتی ہے، اور ٹیوب ویل (Tube Wel) کی اتفاقیہ معمولی نوبت آتی ہے، تو اس کو بارانی ہی سمجھاجائیگا، اور اس کی پیداوار میں عشر واجب ہوگا، اور اگر اس کی سینچائی اکثر ٹیوب ویل (Tube Wel) کے ذریعہ ہوتی ہے، تو اس میں نصف عشر واجب ہوگا۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وآتوا حقه یوم حصاده﴾ ۔ (سورة الأنعام :۱۴۱)

ما فی” أحکام القرآن للجصاص “ : ﴿وآتوا حقه یوم حصاده﴾ وفی بقاء حکمه أو نسخه، والکلام بین السلف فی ذلک من ثلاثة أوجه: أحدها: هل المراد زکاة الزرع والثمار وهو العشر ونصف العشر أو حق آخر غیره؟ وهل هو منسوخ أو غیر منسوخ؟ فالدلیل علی أنه غیر منسوخ، اتفاق الأمة علی وجوب الحق فی کثیر من الحبوب والثمار وهو العشر ونصف العشر۔(۱۳/۳)

ما فی ” صحیح البخاری “ : عن سالم بن عبد الله عن أبیه عن النبی ﷺ قال : ” فیما سقت السماء والعیون أو کان عشریاً العشر، وما سقی بالنضح نصف العشر“۔ (۲۰۱/۱، کتاب الزکاة، باب العشر)

ما فی ” الدر المختار مع الشامي “ : وتجب فی (مسقی سماء) أی مطر (وسیح) کنهر (بلا شرط نصاب)۔۔۔۔۔۔۔ (و) بلا شرط (بقاء) وحولان حول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویجب (نصفه فی مسقی غرب) أی دلو کبیر (ودالیة) أی دولاب لکثرة الموٴنة۔

(۲۴۲/۳۔۲۴۴، کتاب الزکاة، باب العشر، تبیین الحقائق: ۲/۱۰۱، کتاب الزکاة، باب العشر، الهدایة :۲۰۱/۱۔۲۰۲، باب زکوٰة الزروع والثمار)

(۲)ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ولو سُقِی سیحاً وبآلة اعتبر الغالب) أی أکثر السنة کما مر فی السائمة ۔۔۔۔۔۔۔۔ أی إذا أسامها فی بعض السنة وعلفها فی بعضها یعتبر الأکثر ۔(۲۴۴/۳، کتاب الزکاة، باب العشر، الهدایة :۱/۲۰۲، باب زکاة الزروع والثمار)

(فتاوی محمودیه :۴۳۲/۹، کتاب الفتاوی :۳۵۰/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔