باپ کے ساتھ کاروبار میں معاون لڑکوں پر زکوة

مسئلہ:

کسی کاروبار میں اصل رقم والد صاحب کی ہے، اس سے تجارت شروع کی گئی، لڑکے بھی اس کاروبار میں والد کے ساتھ کام کرتے ہیں، کسی کو روپیہ کی ضرورت ہو تو اس کی ضرورت کے مطابق اسے روپیہ دیا جاتا ہے، باقی تمام آمدنی تجارت ہی میں لگادی جاتی ہے، تو اس کاروبار کا اصل مالک باپ ہی ہوگا، اور لڑکے باپ کے معاون شمار ہوں گے،(۱) اس لئے زکوٰة صرف باپ پر ہی واجب ہوگی، کاروبار میں شریک لڑکوں پر نہیں، اسی طرح ان لڑکوں کیلئے اپنے باپ کی اجازت کے بغیر صدقہ، عطیہ اور زکوٰة وغیرہ کی رسیدیں بنوانا جائز نہیں ہے، اور نہ ان کے عمل سے اس طرح باپ پر واجب زکوٰة ادا ہوگی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الشامیة “ : قال الشامي: الأب وابنه یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لها شيء فالکسب کله للأب إن کان الإبن فی عیاله لکونه معیناً له۔

(۳۹۲/۶، کتاب الشرکة، مطلب اجتمعا فی دار واحدة)

(۲) ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : من أدّی زکوٰة مال غیره من مال نفسه بأمر من علیه الزکوٰة جاز، بخلاف ما إذا أدی بغیر أمره ثم أجاز۔

(۴۸/۲، کتاب الزکوٰة، الفصل التاسع فی المسائل المتعلقة بمعطی الزکوٰة)

ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی: لو أدی زکوٰة غیره بغیر أمره فبلغه فأجاز لم یجز، لأنها وجدت نفاذاً علی المتصدق لأنها ملکه ولم یصر نائیاً عن غیره فنفذت علیه۔

(۱۸۸/۳، کتاب الزکوٰة، البحر الرائق: ۳۶۹/۲، کتاب الزکوٰة)

(فتاوی محمودیه: ۱۶۴/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔