بستی ویران ہونے پر مسجد اور سامانِ مسجد کا حکم

مسئلہ:

اگر کسی علاقے کے لوگ اپنے علاقے کو چھوڑ کر دوسرے علاقے میں منتقل ہورہے ہوں ، تو اس صورت میں مسجد کی ضرورت باقی نہ رہنے کی بناء پر مسجد کے سامان کو فروخت کرکے کسی دوسری مسجد کی ضروریات میں صرف کرنا جائز ہے، تاکہ مسجد کا سامان ضائع نہ ہو ، البتہ مسجدکی زمین ابدالآباد تک مسجد ہی باقی رہے گی، اس کو کسی اور مصرف میں خرچ کرنا جائز نہیں۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة ‘‘: عن الحلواني رحمه الله في المسجد والحوض إذا خرب وتفرق الناس یصرف أوقافه إلی حوض ومسجد آخر ۔ (۲۷۱/۶)

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘ : سئل شیخ الإسلام عن أهل قریة رحلوا وتداعی مسجدها إلی الخراب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ هل لواحد لأهل المحلة أن یبیع الخشب بأمر القاضي ویمسک الثمن لیصرفه إلی بعض المساجد أو إلی هذا المسجد ؟ قال: نعم ؛۔(۴۳۰/۶، مطلب في نقل انقاض المسجد)

ما في ’’ فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة ‘‘ : رباط في طریق بعید استغنی عنه المارة وبجنبه رباط آخر قال السید الإمام أبو شجاع رحمه الله تعالی : یصرف غلته إلی الرباط الثاني کالمسجد إذا خرب واستغنی عنه أهل القریة فرفع ذلک إلی القاضي فباع الخشب وصرف الثمن إلی مسجد آخر جاز ۔

(۳۱۵/۳ ، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة :۲۷۰/۶)

اوپر تک سکرول کریں۔