مسئلہ:
مختلف مواقع پر مثلاً بیماری کے بعد صحت یابی ، نوکری یا کاروبار میں ترقی، کسی مقام پر جاکر واپس آنے ، یا مختلف تقریبات مثلاً بچے کی پیدائش، نیا گھر یا جائداد کی خریدی، اسکول یا مدرسہ میں مطلوبہ درجہ میں داخلہ یا کامیابی کے موقع پر اپنے دوست واحباب اور متعلقین کو تحفہ دینا، نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسرے کو تحفہ دینے کی تلقین کی ہے، اور فرمایا ہے کہ اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے(۱)، نیز آپ ا کا یہ معمول مبارک بھی تھا کہ تحفہ دینے والے کو اسی وقت یا کسی اور موقع پر تحفہ پیش فرماتے تھے(۲)، اگر کوئی شخص تحفہ دینے والے کو مالی بدلہ نہ دے سکے تو دعا کے کلمات کہہ دے، کہ یہ بھی ہدیہ کا جواب ہے(۳)، لیکن اس نیت سے کسی کو ہدیہ دینا کہ پھر اسی طرح کا ہدیہ اسے واپس مل جائے درست نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” مجمع الزوائد “ : عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: ” تَهادوْا تَحابّوْا، وهاجروا تورِّثوا أولادکم مجداً، وأقیلوا الکِرَام عثراتهم “۔
(۱۸۵/۴، رقم الحدیث:۶۷۱۶، المعجم الأوسط للطبراني: ۲۵۴/۵، رقم الحدیث:۷۲۴۰، کنز العمال: ۴۴/۶، رقم الحدیث:۱۵۰۵۱، شعب الإیمان للبیهقي:۴۷۹/۶، رقم الحدیث:۸۹۷۶، نصب الرایة للزیلعي: ۲۹۷/۴، کتاب الهبة)
(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن عائشة قالت: ” کان رسول الله ﷺ یقبَل الهدیة ویُثیبُ علیها“۔
(۳۵۲/۱، کتاب الهبة، باب المکافأة في الهبة، السنن لأبي داود: ص/۴۹۸، کتاب البیوع، باب في قبول الهدایا، السنن للترمذي: ۱۶/۲، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في قبول الهدیة والمکافأة علیها)
(۳) ما في ” السنن للترمذي “ : عن أسامة بن زید قال: قال رسول الله ﷺ: ” من صنع إلیه معروف فقال لفاعله: ” جزاک الله خیراً “ فقد أبلغ في الثناء “۔
(۲۳/۲، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في الثناء بالمعروف، مشکوة المصابیح: ص/۲۶۱، کتاب البیوع، باب بعد باب العطایا، الفصل الثاني ، عمل الیوم واللیلة لإبن السني: ص/۱۰۱، باب ما یقول لمن صنع إلیه معروفاً)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (فقد أبلغ في الثناء) أي بالغ في أداء شکره، وذلک أنه اعترف بالتقصیر وأنه ممن عجز عن جزائه وثنائه، ففوّض جزاءه إلی الله لیجزیه الجزاء الأوفی۔ (۱۹۳/۶)
