بلا ضرورت لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال کرنا!

مسئلہ:

آج کل مسجدوں اور نمازوں میں، جہاں ضرورت ہے وہاں بھی اور جہاں ضرورت نہیں ہے وہاں بھی، لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال عام ہے، حالانکہ اس کا استعمال اسی صورت میں ہونا چاہیے جب اس کی ضرورت ہو، اور اس صورت میں بھی اس کاوالیوم (Volume) یعنی آواز اس قدر بلند رکھنا چاہیے کہ تمام مصلیوں کو امام کی آواز سنائی دے، اس سے زیادہ نہیں، کیوں کہ صاحب در مختار علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام کیلئے ضرورت سے زیادہ بلند آواز میں قرآن پڑھنا بہتر نہیں ہے، جس مسجد میں امام کی آواز بآسانی تمام مصلیوں تک پہنچ جاتی ہے، وہاں لاوٴڈ اسپیکر استعمال نہ کرنا بہتر ہے، کیوں کہ بسا اوقات درمیان نماز کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس کے شور وغل سے نمازیوں کے خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے، اور بلا ضرورت اس کا تحمل غیر معقول ہے ، لہذا اس سے بچنا چاہیے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” القرآن ا لکریم “ : ﴿ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها وابتغ بین ذلک سبیلا﴾۔ (سورة الإسراء : ۱۱۰)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویجهر الإمام وجوباً بحسب الجماعة فإن زاد علیه أساء ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة : قال ابن عابدین الشامی رحمه الله : إن الإمام إذا جهر فوق الحاجة فقد أساء ، والإساءة دون الکراهة ولا توجب الإفساد ۔ (۲۲۱/۲۲۹۱ ، کتاب الصلاة)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یجهر الإمام نفسه بالجهر وإذا جهر الإمام فوق حاجة الناس فقد أساء ، لأن الإمام إنما یجهر لإسماع القوم لیدبروا فی قراءته لیحصل إحضار القلب ۔ (۷۲/۱ ، الفصل الثانی فی واجبات الصلاة ، البحر الرائق :۵۸۶/۱ ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح :ص/۲۵۳ ، فصل فی بیان واجب الصلاة)

(فتاوی رحیمیه :۱۷۲/۳، کتاب الفتاوی :۲۵۳/۲، فتاوی حقانیه:۷۹/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔