بلا عذر ملازموں کا غیر حاضر رہنا

مسئلہ:

حکومتی اداروں میں بہت سے ملازمین بلا وجہ شرعی اور بلا گھریلو مجبوری کے اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں، اور متعلقہ آفیسر سے اچھے تعلقات کی بنیاد پر غیر حاضری کے ایام بھی حاضری میں شمار کرواکر پوری تنخواہ وصول کرتے ہیں، جبکہ یہ آفیسر اس کا مجاز نہیں ہوتا، شرعاً یہ عمل ناجائز اور حرام ہے، اس لیے ملازمین پر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرکے اپنے مفوضہ کاموں کو ایمانداری کے ساتھ انجام دیں، کام کے وقت کو ضائع نہ کریں، اور بوقتِ ضرورتِ شدیدہ اپنے متعلقہ آفیسر سے باقاعدہ رخصت لے کرجائیں، اور اس پر سرکاری قانون کے مطابق ہی تنخواہ لیں، تاکہ دنیا وآخرت کی رسوائی اور ذلت سے سبکدوشی ممکن ہوسکے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ویل للمطففین الذین إذا اکتالوا علی الناس یستوفون، وإذا کالوهم أو وزنوهم یخسرون﴾۔ (سورة التطفیف:۳،۲،۱)

ما فی ” أحکام القرآن لإبن العربی“ : قال علماء الدین : التطفیف فی کل شيء فی الصلوة والوضوء والکیل والمیزان۔ (۱۹۰۸/۴)

ما فی ” الموٴطأ للإمام مالک “ : عن یحي بن سعید أن عمر بن الخطاب انصرف من صلاة العصر فلقی رجلاً لم یشهد العصر، فقال عمر: ” ما حبسک عن صلاة العصر؟ فذکر له الرجل عذراً، فقال عمر: طفَّفْتَ، قال یحي: قال مالک: ویقال لکل شئ وفاء وتطفیف “۔(ص:۴، کتاب وقوف الصلاة، باب جامع الوقوف)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (والثانی) وهو الأجیر الخاص ویُسمی أجیر وحد وهو من یعمل لواحد عملاً موقتاً بالتخصیص، ویستحق الأجر بتسلیم نفسه فی المدة وإن لم یعمل کمن استوجر شهراً للخدمة أو شهراً لرعی الغنم، المسمی بأجر مسمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولیس للخاص أن یعمل لغیره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل۔ ” الدر المختار “ ۔

قال ابن عابدین الشامی : قوله : (ولو عمل نقص من أجرته) قال فی التاتارخانیة: نجار استوجر إلی اللیل فعمل لآخر دواةً بدرهم وهو یعلم فهو آثم ، وإن لم یعلم فلا شئ علیه وینقص من أجر النجار بقدر ما عمل فی الدواة۔ (۸۱/۹۔۸۲)

ما فی ” الشامیة “ : قوله : (ولیس للخاص أن یعمل لغیره) ۔۔۔۔۔ قال فی الفتاوی الفضلی: وإذا استأجر رجلاً یوماً یعمل کذا ، فعلیه أن یعمل ذلک العمل إلی تمام المدة ولا یشتغل بشئ آخر سوی المکتوبة، وفی فتاوی سمرقند: وقد قال بعض مشایخنا: له أن یؤدی السنة أیضاً، واتفقوا أنه لا یؤدی نفلاً وعلیه الفتوی۔ (۸۲/۹ ، کتاب الإجارة، المبسوط للسرخسی: ۱۱۵/۱۵، الهدایة: ۲۹۴/۳، البحر الرائق: ۵۲/۸)

(معارف القرآن لمفتی شفیع احمدؒ:۶۹۳/۸،کتاب الفتاوی :۴۰۲/۵، فتاوی حبیبیہ: ۱۶۶/۲، فتاوی احیاء العلوم: ص۳۲۰، فتاوی معاصرہ :ص۱۶۴)

اوپر تک سکرول کریں۔