(فتو یٰ نمبر: ۱۹۶)
سوال:
۱-زید کی بیوی اپنے بچوں کو روزانہ اپنی گاڑی سے اسکول چھوڑنے جاتی ہے، اس بنا پر کہ اس کا شوہر اور خسر دونوں ہی اپنی نوکری پر چلے جاتے ہیں، گھر میں بچوں کو اسکول چھوڑنے والا کوئی نہیں رہتا ہے، تو کیا اس صورت میں زید کی بیوی ڈرائیونگ(Driving) کرکے اپنے بچوں کو اسکول چھوڑسکتی ہے یا نہیں؟
۲-نیز ہمارے گاوٴں کے اطراف واکناف میں میلے لگتے ہیں، جس میں ہر طرح کے سامان آسانی کے ساتھ اور کم قیمت میں دستیاب ہوجاتے ہیں،اور اسی طرح دیوالی کے موقع پر ، تو کیا مسلمان بغرضِ اشترا میلے میں جاکر سامان خرید سکتا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– بچوں کو اسکول چھوڑنے والا گھر میں کوئی موجود نہ ہو، تو زید کی بیوی اپنی گاڑی خود ڈرائیونگ(Driving) کرکے اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ نے جاسکتی ہے، جب کہ وہ شرعی پردے کا پورا پورا التزام کرے۔(۱)
۲-فی نفسہ میلے میں جانا منع نہیں ہے،مگر یہ ہندوٴوں کے مخصوص قومی اور مذہبی میلے ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں جاکر ان کی رونق کو بڑھانا، نا جائز ہے، ایسے مجمعوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے،ان میں شریک ہونا غضبِ الٰہی کا مستحق بننا ہے ؛اس لیے مسلمانوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی چیز سوائے اس میلے کے کہیں نہیں ملتی ہے، تو اس کو خریدنے کے لیے جانا ضرورةً جائز ہے،اور فقہ کا قاعدہ ہے کہ” جب کوئی چیز ضرورةً جائز ہوتی ہے، تو وہ بقدرِ ضرورت ہی جائز ہوتی ہے“؛ اس لیے ضرورت کی چیز خرید کر فوراً وہاں سے واپس ہوجائیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیَّها النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُوٴْمِنِیْنَ یُدْنَیْنَ عَلَیْهنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهنَّ﴾ ۔ (سورة الأحزاب : ۵۹)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : في هذه الآیة دلالة علی أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبیین ، وإظهار الستر والعفاف عند الخروج ؛ لئلا یطمع أهل الریب فیهن ۔ (۴۸۶/۳)
ما في ” المسند للإمام أحمد بن حنبل “ : عن ابن مسعود – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” خیر نساء رکبن الإبل : نساء قریش ، أحناه علی ولد في صغره ، وأرعاه علی زوج في ذات یده “ ۔(۲۴۹/۸ ، صحیح البخاري : ۸۰۸/۲ ، کتاب النفقات)
ما في ” فتاوی معاصرة “ : رکوب الدراجة أو السیارة أو غیرهما من أدوات النقل: أمر مشروع في حد ذاته، وقد کانت المرأة العربیة في جاهلیتها وإسلامها ترکب الإبل، وقال الرسول ﷺ : ” خیر نساء رکبن الإبل : نساء قریش ، أحناه علی ولد في صغره ، وأرعاه علی زوج في ذات یده “ ۔ أي في ماله ، وهذا بشرط أن تحافظ علی الآداب الشرعیة عند رکوبها من الالتزام باللباس الشرعي ، وألا ترکب وراء رجل غیر محرم لها ، أو یرکب ورائها ، لما في ذلک من تماس (تلامس) محظور شرعًا۔
(۵۹۱/۳ ، رکوب الدراجة للمرأة ، تألیف : الدکتور یوسف القرضاوي، ط: دار القلم للنشر والتوزیع الکویت)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلاَ تَرْکُنُوٓا إلِیَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسََّکُمُ النَّارُ﴾۔ (سورة هود : ۱۱۳)
ما في ” البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي “ : والنهي متناول لانحطاط في هواهم والانقطاع إلیهم ومصاحبتهم ومجالستهم وزیارتهم ومداهنتهم ، والرضا بأعمالهم والتشبه بهم والتزي بزیهم ، ومد العین إلی زهرتهم وذکرهم بما فیه تعظیم لهم ۔ (۳۵۰/۵)
ما في ” جامع الترمذي “ : عن صفیة قالت : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لا ینتهی الناس عن غزو هذا البیت حتی یغزو جیش ، حتی إذا کانوا بالبیداء أو ببیداء من الأرض خسف بأولهم وآخرهم ولم ینج أوسطهم قلت : یا رسول اللّٰه ! فمن کره منهم ؟ قال: یبعثهم اللّٰه علی ما في أنفسهم “ ۔ (۴۲/۲ ، کتاب الفتن)
ما في ” تحفة الأحوذي “ : قال النووي : وفي هذا الحدیث من الفقه التباعد من أهل الظلم ، والتحذیر من مجالستهم ومجالسة البغاة ونحوهم من المبطلین ؛ لئلا یناله ما یعاقبون به ۔ (۴۱۷/۶)
ما في ” کنز العمال “ : قوله علیه السلام : ” من کثر سواد قوم فهو منهم ، ومن رضي عمل قوم کان شریکاً في عمله “ ۔ (۱۱/۹ ، رقم : ۲۴۷۳۰)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو شری فیه ما لم یشتریه قبل ، إن أراد تعظیمه کفر ، وإن أراد الأکل والشرب والتنعیم لا یکفر ۔ (در مختار) ۔ (۴۰۳/۱۰)
(مجموعة الفتاوی علی هامش خلاصة الفتاوی :۳۴۰/۴)
ما في ” شرح الفقه الأکبر “ : ومن خرج إلی السُّدّة ، أي مجتمع أهل الکفر في یوم النیروز کفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إذا علم أن هذا الیوم هو النیروز ، لکنه اشتراه بسبب آخر من حدوث ضیافة ونحوها فإنه لا یکفر ۔
(ص/۳۰۶ ، الفتاوی البزازیة علی هامش الفتاوی الهندیة : ۳۳۳/۶، مجموعة الفتاوی علی هامش خلاصة الفتاوی : ۳۴۰/۴ ، مجمع الأنهر : ۵۱۳/۲ ، ألفاظ الکفر أنواع)
ما في ” رد المحتار “ : والأولی للمسلمین أن لا یوفقهم علی مثل هذه الأحوال لإظهار الفرح والسرور ۔ (۴۰۳/۱۰ ، مسائل شتی)
ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : ما أبیح للضرورة یتقدر بقدرها ۔ (۳۰۸/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۳۰ھ
