بچوں کو مسجد میں لانا اور صف میں اپنے ساتھ کھڑا کرنا

مسئلہ:

چار پانچ سال کے بچے عموماً مسجد کو جانتے ہیں، اور سمجھانے پر تلویثِ مسجد سے بھی بچتے ہیں، اس لیے ان کومسجد میں لانا گرچہ جائز ہے، مگر پھر بھی یہ عمر ایسی نہیں کہ وہ تھوڑی دیر سکون سے بیٹھ سکیں، ان سے غلطی اور شرارت کا ہونا ان کی طبیعت میں داخل ہے، اس لیے انہیں مسجد میں لانا اور صف میں اپنے ساتھ کھڑا کرنا درست نہیں، کیوں کہ شریعت نے نماز میں صفوں کی ترتیب یہ بیان کی ہے کہ پہلے مرد ، پھر بچے، پھر خُناثیٰ وغیرہ(۱)، اس لیے اگر کوئی شخص چار پانچ سال کے بچے کو مسجد میں لائے، تو اسے اپنے ساتھ صف میں کھڑا نہ کریں، بلکہ ایک کنارے کھڑا کردیں، یا بٹھادیں، اور یہ تاکید کریں کہ شور وغل نہ کریں، خاموش رہیں، اور اگر ایسا نہیں کرسکتا، تواس عمر کے بچوں کو مسجد میں لاکر دوسروں کی نماز خراب کرنے کا گناہ اپنے سر نہ لیں۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الهندیة “ : ولو اجتمع الرجال والصبیان والخناثٰی والإناث و الصّبیات المراهقات یقوم الرجال أقصی ما یلي الإمام ثم الصبیان ثم الخناثٰی ثم الإناث ثم الصبیات المراهقات ۔ کذا في شرح الطحاوي۔ (۸۹/۱)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : صرّح الفقهاء بأنه: لو اجتمع الرجال والنساء والصبیان، فأرادوا أن یصطفوا لصلاة الجماعة، یقوم الرجال صفًا مما یلي الإمام، ثم الصبیان بعدهم، ثم الإناث۔

(۱۶۵/۱۱، الترتیب في صفوف الصلاة، ترتیب، بدائع الصنائع:۱۵۹/۱، فصل بیان مقام الإمام والمأموم، بیروت، المهذّب للشیرازي: ۹۹/۱، ط: عیسی الحلبي، کشاف القناع:۴۸۸/۱، ط: دارالفکر)

(۲)ما في ” سنن ابن ماجة “ : عن واثلة بن الأسقع، أن النبي ﷺ قال: ” جنّبوا مساجدَکم صبیانَکم، ومجانینَکم وشراءَ کم وبیعکم، وخصوماتکم، ورفع أصواتکم، وإقامة حدودکم، وسلّ سیوفکم“۔

(ص:۵۴، أبواب المساجد ومواضع الصلاة، باب ما یکره في المساجد، قدیمي، المعجم الکبیر للطبراني: ۱۳۲/۸، رقم الحدیث: ۷۶۰۱، دار احیاء التراث العربي، معارف الحدیث:۱۲۱/۳، کتاب الصلاة، دار الإشاعت کراچی)

ما في ” شرح النووي علی هامش مسلم “ : وأن الصبي یجوز إدخاله المسجد، وإن کان الأولی تنزیه المسجد عمن لا یؤمن منه حدث۔(۲۸۲/۳، تحت رقم:۱۰۵۶-۱۹۲)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ویحرم إدخال الصبیان ومجانین حیث غلب تنجیسهم) ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: (ویحرم الخ) لما أخرجه المنذري مرفوعاً: ”جنّبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم، وبیعَکم وشراءکم، ورفع أصواتکم۔ الخ)۔ (۴۲۹/۲، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب في أحکام المسجد، بیروت)

اوپر تک سکرول کریں۔