بچوں کی روزہ کشائی کی رسم

مسئلہ:

بعض لوگ رمضان المبارک کے مہینے میں بچوں کو روزہ رکھواکر روزہ کشائی کراتے ہیں، اور اپنے گھروں میں بہت سی غیر ضروری چیزوں کا اہتمام کرتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں روزہ کشائی کا کوئی اہتمام نہیں تھا، البتہ اگر بچے کا دل بڑھانے کے لیے روزہ مرہ کی بہ نسبت افطاری میں کچھ اضافہ کرلیا جائے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح البخاري “ : عن عائشة رضی الله عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: ” من أحدث في أمرنا هذا ما لیس فیه فهو ردٌّ “۔

(۳۷۱/۱، کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا- الخ، رقم الحدیث:۲۶۹۷،  الصحیح لمسلم: ۷۷/۲، کتاب الأقضیة، السنن لأبي داود: ص/۶۳۵، کتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم الحدیث: ۴۶۲۲، السنن لإبن ماجة: ص/۱۳، مشکوة المصابیح: ص/۲۷، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول)

ما في ” بذل المجهود “ : سواء کان في العمل أو الاعتقاد فهو مردود․(۳۳/۱۳، رقم الحدیث: ۴۶۲۲)

ما في ” رد المحتار “ : البدعة ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول الله ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دیناً قویماً وصراطاً مستقیماً۔

(۲۵۶/۲، مطلب البدعة خمسة أقسام)

ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني “ : البدعة: هي الأمر المحدث الذي لم یکن علیه الصحابة والتابعون ولم یکن مما اقتضاه الدلیل الشرعي۔ (ص:۴۷)

اوپر تک سکرول کریں۔