بڑے جانور کی قربانی ایک فرد کی طرف سے

مسئلہ:

بڑے جانور میں سات افراد کا شامل ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر بڑے جانور میں سات افراد سے کم، مثلاً کسی بڑے جانور میں چھ یا پانچ یا اس سے بھی کم شریک ہوں تب بھی جائز ودرست ہے،(۱) یہاں تک کہ اگر تنہاہی ایک آدمی پورے بڑے جانور کی قربانی اپنی طرف سے کرے تو بھی جائز ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” البحر الرائق “ : وتجوز عن ستة أو خمسة أو أربعة أو ثلاثة ذکره فی الأصل، لأنه لما جاز عن سبعة فما دونها أولیٰ۔ (۳۱۹/۸، کتاب الأضحیة)

ما فی ” الهدایة “ : وتجوز عن خمسة أو ستة أو ثلاثة، ذکره محمد فی الأصل، لأنه لما جاز عن سبعة فعن دونهم أولیٰ۔ (۴۴۴/۴، کتاب الأضحیة، مجمع الأنهر: ۴/۱۶۸)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتجزی عما دون سبعة بالأولیٰ۔(۳۸۳/۹، کتاب الأضحیة، بدائع الصنائع: ۲۰۵/۴)

(۲) ما فی ” مجمع الأنهر “ : (وهی) أی الأضحیة (شاة) تجوز من فرد فقط (أو بدنة) تجوز من واحد أیضاً۔ (۱۶۸/۴، کتاب الأضحیة)

 (کتاب الفتاوی :۱۴۴/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔