مسئلہ:
بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ بھینس کی قربانی درست نہیں ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ شریعتِ مقدسہ میں تین قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے، اور فقہاء کرام نے ان تین قسموں میں گائے کے ساتھ بھینس کو بھی شمار کیا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وصح الثنی فصاعداً من الثلاثة، وهو ابن خمس من الإبل، وحولین من البقر والجاموس، وحول من الشاة ۔ تنویر مع الدر ۔ قال الشامي: قوله: (والجاموس) نوع من البقر، وکذا المعز نوع من الغنم ، بدلیل ضمها في الزکاة۔ (۳۹۰/۹، کتاب الأضحیة)
ما في ” بدائع الصنائع “ : أما جنسه فهو أن یکون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر، ویدخل في کل جنس نوعه والذکر والأنثی منه والخصي والفحل لانطلاق إسم الجنس علی ذلک، والمعز نوع من الغنم، والجاموس نوع من البقر، بدلیل أنه یضم ذلک الغنم والبقر في باب الزکاة۔ (۲۰۵/۴، کتاب الأضحیة، فصل محل إقامة الواجب)
ما في ” تبیین الحقائق “ : قال رحمه الله: (والأضحیة من الإبل والبقر والغنم) لأن جواز التضحیة بهذه الأشیاء عرف شرعاً بالنص علی خلاف القیاس فیقتصر علیها، ویجوز بالجاموس لأنه نوع من البقر۔(۴۸۳/۶، کتاب الأضحیة، البحر الرائق: ۳۲۴/۸، کتاب الأضحیة، فتاوی قاضي خان: ۳۳۱/۴، کتاب الأضحیة، فصل فیما یجوز في الضحایا ۔۔ الخ)
(فتاویٰ محمودیه:۲۶۱/۲۶)
