مسئلہ:
آج کل بھیک مانگنا ایک پیشہ بن چکا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگ حج جیسی عظیم عبادت کا سفر بھی بھیک مانگنے کیلئے کررہے ہیں، جیسا کہ سعودی نیوز پیپروں کے ذریعہ اس طرح کی خبریں شائع ہوچکی ہیں، جبکہ شرعاً بلا ضرورتِ شدیدہ بھیک مانگنا بالکل جائز نہیں ہے(۱)، اور نہ ہی ایسے بھکاریوں کو بھیک دینا جائز ہے، جنہوں نے بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنالیا ہو، کیوں کہ ایسے بھکاریوں کو بھیک دینا حرام میں تعاون کرنے کے مترادف ہے۔(۲)
نیز جو لوگ بلاضرورت شدیدہ بھیک مانگتے ہیں، وہ سخت وعید کے مستحق بھی ہیں، کہ قیامت کے دن ان کے چہروں پرخراشیں اورذلت طاری ہوگی(۳)، اس لیے بلاضرورت بھیک مانگنے سے بچنا انتہائی ضروری ہے، ہاں البتہ ضرورت شدیدہ کے وقت جان بچانے، اور اس کی حفاظت کیلئے بقدرِضرورت سوال کرنا جائز ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما فی ” مشکوة المصاببیح “ : عن قبیصة بن مخارق قال: تحملت حمالةً فأتیت رسول الله ﷺ أسئله فیها فقال: أقم حتی تأتینا الصدقة فنأمر لک بها ثم قال: یا قبیصة! ” إن المسئلة لا تحل إلا لأحد ثلاثة : رجل تحمل حمالة فحلت له المسئلة، حتی یصیبها ثم یمسک، ورجل أصابته جائحة إجتاحت ماله فحلت له المسئلة حتی یصیب قواماً من عیش، أو قال سداداً من عیش ورجل أصابته فاقة حتی یقوم ثلاثة من ذوی الحجیٰ من قومه لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسئلة حتی یصیب قواماً من عیش، أو قال سداداً من عیش فما سواهن من المسئلة یا قبیصة سحت یأکلها صاحبها سحتاً “۔(ص:۱۶۲، کتاب الزکاة، باب من لا تحل له المسئلة)
(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : لا یحل أن یسئل شیئاً من القوت من له قوت یومه بالفعل أو بالقوة کالصحیح المکتسب، ویأثم معطیه إن علم بحاله لإعانته علی المحرم۔
(۲۷۶/۳، کتاب الزکاة، مطلب فی الحوائج الأصلیة)
(۳) ما فی ” مشکوة المصاببیح “ : عن عبد الله بن مسعودؓ قال: قال رسول الله ﷺ: ” من سأل الناس وله ما یغنیه جاء یوم القیامة ومسألته فی وجهه خموش أو خدوش أو کدوح “۔ (ص:۱۶۲)
(۴) ما فی ” مشکوة المصاببیح “ : عن حُبْشِیّ بن جُنادة قال: قال رسول الله ﷺ: ” إن المسئلة لا تحل لغنی ولا لذي مِرة سویّ إلا لذی فقر مدقع أو غرُم مفظع، ومن سأل الناس لیثری به ماله کان خموشاً فی وجهه یوم القیامة ورضفا یأکله من جهنم فمن شاء فلیقلّ ومن شاء فلیکثر “۔ رواه الترمذی (ص:۱۶۳)
