مسئلہ:
بہنوئی سالی کے لیے محرم نہیں ہے، محرم اُس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو(۱)، حالانکہ بہنوئی کے ساتھ نکاح بہن کے اس کے نکاح میں ہونے تک ہی حرام ہے، اگر بہنوئی بہن کو طلاق دیدے اور اس کی عدت گزر جائے، یا بہن کا انتقال ہوجائے، تو بہنوئی سے سالی کا نکاح حرام نہیں ہے(۲)، اور وہ اپنی سالی سے نکاح کرسکتا ہے، اس لیے سالی بہنوئی کا آپس میں ہنسی مذاق کرنا اور بے پردہ سامنے آنا شرعاً منع وحرام ہے(۳)، ہمارا معاشرہ اس حکم شرعی سے بڑی غفلت برتتا ہے، جس کے مفاسد اور برائیاں آئے دن ہمارے مشاہدے میں آتی رہتی ہیں، لہٰذا اس جانب خاص توجہ دی جانی چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : والمحرم من لا یجوز مناکحتها علی التأبید لقرابة أو رضاع أو صهریة۔
(۴۱۱/۳، کتاب الحج، مطلب یقدم حق العبد، الفتاوی الولوالجیة:۲۵۳/۳، الفصل الأول في شرائط وجوب الحج، الاختیار لتعلیل المختار:۲۰۰/۱، کتاب الحج، الفتاوی الهندیة:۲۱۹/۱، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج ، فتح القدیر:۴۲۶/۲، کتاب الحج)
(۲) ما في ” رد المحتار “ : فرع: ماتت امرأة له التزوج بأختها بعد یوم من موتها کما في الخلاصة عن الأصل، وکذا في المبسوط لصدر الإسلام والمحیط والسرخسي والبحر والتاترخانیة وغیرها من الکتب المعتمدة، وأما ما عزی إلی النتف من وجوب العدة فلا یعتمد علیه، وتمامه في کتابنا الفتاوی الحامدیة۔
(۱۱۶/۴، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، بیروت، الدر المنتقی مع مجمع الأنهر:۴۷۸/۱، کتاب النکاح، باب المحرمات)
ما في ” أحکام القرآن للتھانوی “ : ولا یحرم الزنا بأحد الأختین النکاح بالأخری کما لا یحرم الأخری بعد موت إحداهما أو انقضاء العدة من الطلاق۔
(۲۱۴/۲، سورة النساء، قوله تعالی: وأن تجمعوا بین الأختین إلا ما قد سلف)
(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي الأشباه : الخلوة بالأجنبیة حرام۔(۵۲۹/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمسّ)
ما في ” تبیین الحقائق “ : والأصل أن لا یجوز النظر إلی المرأة لما فیه من خوف الفتنة، ولهذا قال علیه الصلاة والسلام: ” المرأة عورة مستورة “ إلا ما استثناه الشرع وهما العضوان۔ (۳۹/۷، کتاب الکراهیة، فصل في النظر والمس)
(فتاویٰ محمودیہ :۴۹/۱۷، میرٹھ)
