بہن بھائی کے ساتھ عصبہ، صرف ایک بیٹی وارث ہے

(فتویٰ نمبر: ۱۵)

سوال:

میرے خسر صاحب؛ شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری (مرحوم) ان کی ایک بہن تھی” گلشن بی“ ، ان دونوں کو ورثے میں ایک مکان ملا ہے،گلشن بی کے انتقال کو تقریباً ۲۰/ سال ہورہے ہیں، ان کی ایک لڑکی صفیہ بی ہے۔

 میرے خسر صاحب کی ۴/ بیٹیاں اور ۲/ بیٹے ہیں، ان میں سے ایک بیٹی زبیدہ کا انتقال سب سے پہلے ہوا، اس کے بعد میری ساس صاحبہ کا انتقال ہوا، اس کے بعد میری بڑی سالی عابدہ آپا کا انتقال ہوا، یہ تینوں اموات میرے سسر صاحب کی حیات میں ہوئیں، اس وقت میری پھوپھی ساس کی ایک بڑی بیٹی صفیہ بی اور خسر صاحب کی ۴/ بیٹیاں اور ۲/ بیٹے حیات ہیں، توان کے مابین ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟

دوسراایک مکان میرے خسر صاحب کا کمایا ہوا ہے، اس میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ جن بیٹیوں کا میرے خسر کی حیات میں انتقال ہوا، ان کا وراثت میں کتنا حصہ رہے گا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– بہن گلشن بی اپنے بھائی شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری کے ساتھ عصبہ ہوگی(۱)؛ اس لیے جو مکان ان دونوں کو ورثے میں ملا، اولاً اس مکان کے تین حصے ہوں گے،اس میں سے دو حصے شیخ منصوری کو اور ایک حصہ گلشن بی کو ملے گا۔

۲– جب گلشن بی کا انتقال ہوا اور ان کے ورثا میں صرف ایک لڑکی صفیہ اور ایک بھائی شیخ اسماعیل شخص منیر منصوری تھے، تو گلشن بی کا یہ حصہ دو حصوں میں تقسیم ہوکر ایک حصہ ان کی لڑکی صفیہ کو اور ایک حصہ ان کے بھائی شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری کو ملے گا۔

۳– شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری کو پہلی صورت میں جو دو حصے اور دوسری صورت میں جو(نصف) حصہ ملا، وہ آٹھ حصوں میں تقسیم ہوکر ایک ایک حصہ چار بیٹیوں کو ، اور دو دو حصے دونوں بیٹوں کو ازروئے شرع دیئے جائیں گے۔(۲)

۴– جو مکان آپ کے خسر شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری کا کمایا ہوا ہے، اور ان کے وارثین میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، جیسا کہ صورتِ مسئولہ سے معلوم ہورہا ہے، تو یہ مکان بھی آٹھ حصوں میں تقسیم ہوکر دو دو حصے ان کے دونوں بیٹوں، اور ایک ایک حصہ ان کی چار بیٹیوں کو ازروئے شرع دیا جائے گا۔

جو دو بیٹیاں (زبیدہ اور عابدہ) آپ کے خسر مرحوم شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری کی حیات میں انتقال کرگئیں، انہیں وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، لیکن اگر بوقتِ تقسیمِ میراث تمام ورثا اپنے اپنے حصہٴ میراث میں سے ان کی اولاد کو کچھ دے دیں، تو یہ حسنِ اخلاق میں داخل ہے،جس کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُوْلُوْا الْقُرْبٰی وَالْیَتَامٰی وَالْمَسَاکِیْنُ فَارْزُقُوْهمْ مِّنْه وَقُوْلُوْا لَهمْ قَوْلا مَعْرُوْفًا﴾ ۔”اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھلادو اس میں سے اورکہہ دو ان سے معقول بات ۔“ (سورہٴ نساء: ۸)

اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ میراث کی تقسیم کے وقت اگر کچھ دور کے رشتہ داریتیم اور مسکین وغیرہ جمع ہوجائیں،جن کا کوئی حصہ ضابطہٴ شرعیہ سے اس میراث میں نہیں ہے، تو ان کے جمع ہونے سے تم تنگ دل نہ ہوں، بلکہ جو مال خدا تعالیٰ نے تمہیں بلا محنت عطا فرمایا ہے اس میں سے بطورِ شکرانہ کچھ عطا کردو،اور غنیمت جان لو کہ خرچ کا ایک اچھا موقع مل رہا ہے، اس موقع پر کچھ نہ کچھ دے دینے میں ان دور کے رشتہ داروں کی دل شکنی اور حسرت بھی دور ہوگی؛ اس لیے مرحوم شیخ اسماعیل شیخ منیر منصوری کی موجودہ اولاد (وارثوں) کو چاہیے کہ مرحومہ زبیدہ اور عابدہ کی اولاد کو اپنے اپنے حصے میں سے بخوشی کچھ دے دیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل في نسبته إلی المیت أنثی ، وهم أربعة أصناف ثم جزء أبیه أي الأخوة ۔ (ص/۲۲)

(۲) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما لبنات الصلب فأحوال ثلاث : النصف للواحدة ، والثلثان للاثنتین فصاعدة ، ومع الإبن للذکر مثل حظ الأنثیین وهو یعصبهن ۔

(ص/۱۲)

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء :۱۱) فقط

 والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۸/۱۲/۲۹ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۸/۱۲/۲۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔