مسئلہ:
بعض شادیوں میں ، شادی میں شرکت کرنے والے لوگ دلہن کے لیے کوئی سامان یا برتن تحفہ میں دیتے ہیں، جب یہ سامان ڈبل یا اُس سے زائد ہوجاتا ہے، مثلاً دو مِکسر مشین یا دو دیوار گھڑیاں ہوجاتی ہیں، تو دلہن کے گھر کی عورتیں اس میں سے ایک رکھ لیتی ہیں، اور ایک دیدیتی ہیں، اس کا علم نہ تحفہ دینے والے شخص کو ہوتا ہے اور نہ دلہن کو۔
اسی طرح بعض لوگ اپنی بہو کو جہیز میں آئے ہوئے سامان میں سے کوئی سامان یا برتن ، اُس کی اجازت کے بغیر ، اپنے کسی عزیز وقریب کی لڑکی کی شادی میں بطورِ تحفہ دیتے ہیں، شرعاً یہ دونوں عمل درست نہیں، کیوں کہ جو ہدیہ وتحفہ دلہن کو دیا گیا وہ اس کی مالک ہے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملک میں اس طرح کا تصرف درست نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” السنن الکبری للبیهقي “ : ” لا یحل مال امرئٍ مسلم إلا بطیب نفس منه “۔
(۱۶۶/۶، کتاب الغصب، مشکوة المصابیح: ص/۲۵۵، السنن الدارقطني:۲۲/۳، کتاب البیوع، رقم الحدیث: ۲۸۶۲، المسند للإمام أحمد بن حنبل:۴۰۰/۱۵، رقم الحدیث:۲۰۹۸۰، جمع الجوامع: ۷/۹، رقم الحدیث: ۲۶۷۵۹، شعب الإیمان للبیهقي: ۳۸۷/۴، رقم الحدیث: ۵۴۹۲)
ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنه۔ وفیه أیضاً: لا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي۔
(۹۶/۱-۹۸، رقم المادة: ۹۶-۹۸)
ما فی ” رد المحتار “ : لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي۔
(۷۷/۶، کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب في التعزیر بأخذ المال، البحر الرائق:۶۸/۵، کتاب الحدود، فصل في التعزیر)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : لا یجوز التصرف في مال غیره بلا إذنه ولا ولایته۔ (۲۴۰/۹، کتاب الغصب، مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر)
