(فتویٰ نمبر: ۴۹)
سوال:
ہم اہالیانِ مالیگاوٴں کا کاروبار پارچہ بافی (Textile)کا ہے، اس میں ہمیں اپنے لوم (Loom) پر تیار ہونے والے کپڑے، اسی طرح اس میں لگنے والے سوت (دونوں کی کوالیٹی (Quality) معلوم ومتعین ہے)کی پیشگی خریدو فروخت کرنی ہوتی ہے، مثلاً آج ہم سوت کے بیو پاری کو دس گاڑی سوت کا آرڈر دیتے ہیں کہ یہ سوت آپ ہمیں ایک مہینے میں دے دیں، اسی طرح کپڑے کے بیوپاری سے ہم اپنے کپڑے کو اس طرح فروخت کرتے ہیں کہ ایک مہینہ تک جتنا کپڑا تیار ہوگا ہم آپ کو دے دیں گے، اور اس خریدو فروخت میں آرڈر(Order) دینے کے دن اور کپڑا فروخت کرنے کے دن کی قیمت ہی کا اعتبار ہوتا ہے، خواہ جس دن سوت ہمیں مل رہا ہے ،یا جس دن ہم بیوپاری کو کپڑا دے رہے ہیں، اس دن کپڑے کی کوئی بھی قیمت ہو ، خواہ سودے کے دن سے کم یا زیادہ ،توکیا اس طرح کا کاروبار کرنا شرعاً صحیح ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
سوال میں مذکور بیع (خریدوفروخت) کی اس صورت کو فقہ کی اصطلاح میں استصناع (Custom Order/کسی کو کسی چیز کے بنانے کا آرڈر دینا یا فر مائش کرنا) کہتے ہیں، اور یہ صورت شرعاً جائز ہے، جب کہ اس میں مندرجہ ذیل شرطیں پائی جائیں:
۱/ جس چیز کا آرڈر (Order) دیا جارہا ہے اس کی جنس (Category)معلوم ہو۔
۲/ نوع (Quality) معلوم ہو۔
۳/ مقدار (Quantity) معلوم ہو۔
۴/ صفت (Adjective) معلوم ہو۔
۵/ لوگوں کا اس میں تعامل (Dealing) ہو، یعنی لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرتے ہوں۔
۶/ آرڈر کردہ (Ordered)چیز کی ادائیگی کے لیے کوئی وقت مقرر نہ ہو، ورنہ یہ بیع، بیعِ سلم (اُدھار خرید وفروخت) کہلائے گی، جس میں پوری قیمت پیشگی دینا لازم ہوتا ہے، ہاں! محض جلد آرڈر پورا کرنے کے لیے کسی وقت کو متعین کیا جائے تو یہ صحیح ہوگا۔
جب آرڈر کا مال باہم طے کردہ اوصاف کے مطابق تیار ہوجائے، تو آرڈر دینے والے کے لیے پوری قیمت کے عوض اس مال کو وصول کرنا واجب ہے، خواہ اسے اس مال کی ضرورت ہو یا نہ ہو، اور اس کے لینے میں اس کا نفع ہو یا نقصان، ورنہ گنہگار ہوگا، لیکن اگر باہم طے کردہ اوصاف کے خلاف مال تیار ہوا، تو اس کا لینا لازم نہیں ہوگا، رہی قیمت توبوقتِ عقد (آرڈر دیتے وقت) جو قیمت طے کی گئی اسی کا اعتبار ہوگا، خواہ بعد میں آرڈر (Order) کے مال کی قیمت کم ہوئی ہو یا بڑھ گئی ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الاستصناع جائز في کل ما جری التعامل فیه کالقلنسوة ، والخف، والأواني المتخذةمن الصفر والنحاس ، وما أشبه ذلک استحسانًا ، کذا في المحیط ۔ ثم إنما جاز الاستصناع فیما للناس فیه تعامل إذا بین وصفًا علی وجه یحصل التعریف۔ اه ۔(۲۰۷/۳ ، الباب التاسع في القرض والاستقراض والاستصناع)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما شرائط جوازه ، فمنها : بیان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته ؛ لأنه لا یصیر معلومًا بدونه ، ومنها : أن یکون مما یجري فیه التعامل بین الناس ۔۔۔۔۔ وإنما جوازه استحسانًا لتعامل الناس ۔ اھ ۔ (۸۶/۶ ، کتاب الاستصناع ، فصل في شرائط جوازه)
(رد المحتار: ۴۷۳/۷ ، ۴۷۴ ، کتاب البیوع ، باب السلم ، مطلب في الاستصناع)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : والاستصناع بأجل سلم جری فیه تعامل أم لا ، وبدونه فیما فیه تعامل، کخف وقمقمة وطست صح بیعًا لا عدةً ، فیجبر الصانع علی عمله ولا یرجع الآمر عنه ۔ (تنویر) ۔(۴۷۳/۷ – ۴۷۵ ، کتاب البیوع ، باب السلم ، مطلب في الاستصناع)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : الاستصناع – باعتباره عقدًا مستقلا – مشروع عند أکثر الحنفیة علی سبیل الاستحسان ، ومنعه زفر من الحنفیة أخذًا بالقیاس ؛ لأنه بیع المعدوم ، ووجه الاستحسان : استصناع الرسول ﷺ الخاتم ، والإجماع من لدن رسول اللّٰه ﷺ دون نکیر ، وتعامل الناس بهذا العقد والحاجة الماسة إلیه ۔ (۳۲۷/۳)
ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي حازم قال : أتی رجالٌ سهل بن سعد یسألونه عن المنبر فقال : بعث رسول اللّٰه ﷺ إلی فلانة امرأة قد سماها سهل أن مُري غلامکِ النجارَ یعمل لي أعوادًا أجلس علیهن إذا کلمت الناس ، فأمرته یعملها من طرفاء الغابة ثم جاء بها فأرسلت إلی رسول اللّٰه ﷺ بها ، فأمر بها فوضعت فجلس علیها ۔
(۲۸۱/۱ ، باب النجار) (انعام الباری :۱۷۸/۶)
ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عمر أن رسول اللّٰه ﷺ اصطنع خاتمًا من ذهب ، وکان یلبسه فیجعل فصه في باطن کفه فصنع الناس ، ثم إنه جلس علی المنبر فنزعه ، فقال : إني کنت ألبس هذا الخاتم وأجعل فصه من داخل فرمی به ، ثم قال : ” واللّٰه لا ألبسه أبدًا فنبذ الناس خواتیمهم “ ۔
(۹۸۴/۲ ، باب من حلف علی الشيء وإن لم یحلف) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۷ھ
