مسئلہ:
آج کل خرید وفروخت کی یہ صورت عام ہے کہ ایک شخص دکاندار سے اپنی ضرورت کی چیزیں وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی کرکے خرید لیتا ہے، یا اپنے بچہ یا نوکر کے ذریعہ منگوالیتا ہے، ہر مرتبہ چیز لیتے وقت نہ تو ایجاب وقبول ہوتا ہے اور نہ ہی بھاوٴ تاوٴ ہوتا ہے، حضراتِ فقہاء کرام کی اصطلاح وزبان میں لین دین کی اس صورت کو ” بیع استجرار“ کہا جاتا ہے، فقہ کے مشہور قواعد کی رُو سے گرچہ یہ بیع جائز نہیں ہے، کیوں کہ جب یہ چیزیں لی جاتی ہیں اس وقت قیمت متعین نہیں کی جاتی، بلکہ ہفتہ یا مہینے کے آخر میں خریدار دکاندار کا حساب چکا دیتا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ جس وقت خریدار حساب چکاتا ہے اس وقت بیع منعقد ہوتی ہے، تو اس میں دو خرابیاں لازم آتی ہیں، ایک خرابی تو یہ کہ بیع منعقد ہونے سے پہلے ہی خریدار مبیع کو استعمال کرچکا ، جو اس کے لیے جائز نہیں تھا، دوسری خرابی یہ کہ جس وقت بیع منعقد ہورہی ہے، اس وقت مبیع یعنی خریدا جانے والا سامان معدوم وغیر موجود ہے، حالانکہ شریعت معدوم وغیر موجود کی بیع کو منع کرتی ہے، مگر ان سب باتوں کے باوجود لین دین کی یہ صورت استحساناً جائز ہے، جیسا کہ صاحبِ قنیہ فرماتے ہیں:” وہ گھریلو ضرورت کی اشیاء جن کو عادةً لوگ بغیر بیع وشراء کے ضرورت کے مطابق دکاندار سے لیتے ہیں، جیسے دال، نمک اور تیل وغیرہ ، اور پھر ان اشیاء کو استعمال کرنے کے بعد آخر میں ان کی بیع کرتے ہیں،- یعنی دکاندار کو اس کا حساب چکادیتے ہیں، -یہ معاملہ صحیح ہے، اور اس میں معدوم کی بیع جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فرع : ما یستجره الإنسان من البیاع إذا حاسبه علی أثمانها بعد استهلاکها جاز استحساناً ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (ما یستجرّه الإنسان الخ) ذکر في البحر أن من شرائط المعقود علیه أن یکون موجودًا، فلم ینعقد بیع المعدوم، ثم قال: ومما تسامحوا فیه وأخرجوه عن هذه القاعدة ما في القنیة: الأشیاء التي توٴخذ من البیاع علی وجه الخرج کما هو العادة من غیر بیع کالعدس والملح والزیت ونحوها ثم اشتراها بعد ما انعدمت صح ۔ اه ۔ فیجوز بیع المعدوم هنا ۔۔۔۔ قلت: کل هذا قیاس، وقد علمت أن المسئلة استحسان، ویمکن تخریجها علی فرض الأعیان، ویکون ضمانها بالثمن استحساناً ۔۔۔۔۔۔ فإذا انعقد بیعًا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فکذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولی۔ (۲۲/۷۔۲۳، کتاب البیوع، مطلب: البیع بالتعاطي)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : تتعدد صور بیع الاستجرار، ولذلک تختلف أحکامه من صورة لأخری، وبیان ذلک فیما یلي: الصورة الأولی؛ أن یأخذ الإنسان من البیاع ما یحتاج إلیه شیئًا فشیئًا مما یستهلک عادة، کالخبز والملح والزیت والعدس ونحوها مع جهالة الثمن وقت الأخذ ثم یشتریها بعد استهلاکها، فالأصل عدم انعقاد هذا البیع، لأن المبیع معدوم وقت الشراء، ومن شرائط المعقود علیه أن یکون موجودًا، لکنهم تسامحوا في هذا البیع وأخرجوه عن هذه القاعدة (اشتراط وجود المبیع) وأجازوا بیع المعدوم هنا استحسانًا، وذلک کما في البحر الرائق والقنیة۔ (۴۳/۹، بیع، بیع الاستجرار، البحر الرائق: ۴۳۴/۵، کتاب البیع، تحت قوله: وأما شرائط المعقود علیه)
