مسئلہ:
خرید وفروخت اور لین دین کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض خُردہ فروش، ہول سیل کے بیوپاریوں سے مال لیتے ہیں، اور یہ شرط لگاتے ہیں کہ دن بھر میں جتنا مال فروخت ہونے سے بچ جائے گا، شام کو ہم اسے واپس کردیں گے، اور وہ اس شرط کومان لیتے ہیں، اب جو مال بچ جاتا ہے وہ ہول سیلر کو واپس کیا جاتا ہے، لین دین کی یہ صورت درست ہے، کیوں کہ بیع بالخیار میں جس کا خیار ہے، اس کے حق میں بیع قطعی نہیں ہوتی، دوسرے کے حق میں قطعی ہوتی ہے، یعنی ہول سیلر کے حق میں قطعی ہے، خُردہ فروش کے حق میں قطعی نہیں، جس وقت وہ خیار ساقط کردے گا، اس کے حق میں بھی بیع قطعی ہوجائیگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ :(ویخرج عن ملکه)أي البائع(مع خیار المشتری)فقط۔(۸۸/۷، کتاب البیوع، باب خیار الشرط،مطلب:المقبوض علی سوم النظر)
ما في ” الهدایة “ : ومن شرط له الخیار فله أن یفسخ في مدة الخیار وله أن یجیز، فإن أجاز بغیر حضرة صاحبه جاز، وإن فسخ لم یجز، إلا أن یکون الآخر حاضرًا۔
(۱۶/۳، کتاب البیوع، باب خیار الشرط، الفتاوی الهندیة:۴۲/۳، کتاب البیوع، الفصل السادس في خیار الشرط، الفصل الثاني في بیان ما ینفذ به هذا البیع الخ)
(حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، موٴلفہ مفتی اکرام الدین پاتورڈوی)
