بیع وشراء کے وکیل کی حیثیت امین کی ہے

مسئلہ:

اگر بازار میں کسی چیز کی قیمت مثلاً سوروپئے ہیں، اور زید کو اس چیز کی ضرورت ہے، وہ اپنے دوست حامد کو اس چیز کی خریدنے کا وکیل بنائے کہ آپ میرے لیے یہ چیز خرید کر لادیں، حامد کا چوں کہ دکاندار سے اچھا تعلق ہے، اور حامد مستقلاً اس کا گاہک ہے، اس لیے دکاندار نے حامد کو وہ چیز ۹۰ روپئے ہی میں دیدی، اب جو دس روپئے بچ گئے وہ حامد کے پاس امانت ہیں، وہ اسے زید کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرسکتا، کیوں کہ بیع وشراء کے وکیل کی حیثیت امین کی ہے، اور امین صاحبِ امانت کی چیز میں اجازت کے بغیر کوئی خرد برد نہیں کرسکتا، ہاں! اگر حامد زید سے یہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کے لیے خرید کر لادوں گا ، مگر میں اس پر دس روپئے اجرت لوں گا، تو اس صورت میں وہ دس روپئے کا حقدار ہوگا، اب چاہے تو زید اجرت میں وہی دس روپئے دیدے جو بچ گئے، یا نہ بچنے کی صورت میں اپنے جیب سے دیدے، اب یہ رقم جائز ہوگی اور اس کا استعمال میں لانا درست ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : المال الذي قبضه الوکیل والرسول من جهة الوکالة ومن جهة الرسالة أمانة في یدهما۔ (۲۳۶/۲، المادة: ۱۴۶۳)

وفیه أیضًا: المال الذي قبضه الوکیل بالبیع والشراء وإیفاء الدین واستیفائه وقبض العین من جهة الوکالة في حکم الودیعة في یده۔

(۵۶۱/۳، المادة:۱۴۶۳، أحکام الودیعة العمومیة، دار الجیل بیروت، شرح المجلة لسلیم رستم باز:ص/۷۸۴، المادة: ۱۴۶۳، دار احیاء التراث العربي بیروت)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وکذلک إن اشتری بها ماکولا ونقدها لم یحلّ أن یأکل ذلک قبل أداء الضمان ۔ اه ۔

(۳۴۸/۴، کتاب الودیعة، الباب الرابع فیما یکون تضییعًا للودیعة وما لا یکون ۔۔ الخ)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۲۶۱۸)

اوپر تک سکرول کریں۔