(فتویٰ نمبر: ۵۵)
سوال:
۱-حضرت آپ نے بیانِ مصطفی ۲۰۰۸ءء جنوری کے رسالے میں ایک سوال کے جواب میں، جس میں آپ سے پوچھا گیا تھا کہ عورتیں بلیچ کرواسکتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا تھا کہ بیوٹی پارلر میں ہونے والے ہیئر کٹنگ، تھریڈنگ، مکسنگ، بلیچنگ کروانا گنا ہ ہے، لیکن آپ گھر پر کرسکتی ہو۔
اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا کہ عورتوں کے لیے نوچ کر چہرے کے بال صاف کرنا اور ان کی ہیئت تبدیل کرنا جائز ہے، حالاں کہ بیوٹیشن کی زبان میں اسی کو تھریڈنگ اور بلیچنگ کہتے ہیں، یہ سب عورتیں اپنے آپ کو اچھا دکھانے کے لیے کرتی ہیں، تو کیا یہ گناہ ہے؟
۲-اگر لڑکا لڑکی کی منگنی ہوگئی ہو، تو کیا وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں؟
۳-نیزدونوں کمپیوٹرپر بیٹھ کر چیٹنگ(جس میں وہ ایک دوسرے کی آواز نہیں سن سکتے) کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-بلیچنگ(Bleaching)اور تھریڈنگ(Threading) دونوں ایک نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے،ایک قسم کی کریم (Cream)سے چہرے پر موجود بالوں کو( جس سے منہ کالا لگتا ہے) جلد کی رنگت میں کردیا جاتا ہے، اس کے بعد ایسا لگتا ہی نہیں کہ چہرے پر بال ہیں، اسے بلیچنگ (Bleaching) کہتے ہیں۔
تھریڈنگ (Threading)میں بالوں کو دھاگے کے ذریعے اُکھاڑا جاتا ہے، تاکہ عورت حسین وجمیل معلوم ہو اور اس کا شوہر اس سے نفرت نہ کرے۔
یہ دونوں عمل اگر گھر پر کیے جائیں، تو کوئی مضائقہ نہیں، کیوں کہ زینت وتحسین عورت کے لیے مطلوب ہے، لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا، خصوصاً تھریڈنگ(Threading)، کیوں کہ اس میں ایک قسم کی تکلیف وایذا ہے، اور شریعت اپنے ماننے والوں کو ہر ایسے عمل سے منع کرتی ہے جس سے ہمیں دنیوی یا اُخروی ضرر ونقصان پہنچتا ہو۔(۱)
۳/۲– نکاح سے پہلے منگیتر اجنبی کے حکم میں ہے، لہٰذا نکاح سے پہلے منگیتر کا حکم وہی ہے، جو غیر مرد کا ہے؛اس لیے بالمشافہہ یا بذریعہٴ فون وموبائل بات کرنا،یا انٹر نیٹ (Internet) کے ذریعہ چیٹنگ (Chatting) کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰه﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱۹)
ما في ” تکملة فتح الملهم “ : قوله علیه السلام : ” لعن اللّٰه الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات ، والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللّٰه “ ۔ (عن عبد اللّٰه)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوله : (والنامصات)۔۔۔۔۔۔۔ النامصة : هي التي تنتف شعر الوجه کما في القاموس وتاج العروس ، والمتنمصة : من تأمر امرأة أخری بنتف الشعر عن نفسها ۔۔۔۔۔ وأکثر ما تفعله النساء في الحواجب وأطراف الوجه ابتغاء للحسن والزینة ۔۔۔۔۔ وهو حرام بنص هذا الحدیث ۔ (۱۶۸/۱۰)
ما في ” رد المحتار “ : لعن اللّٰه النامصة والمتنمصة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ النامصة التي تنتف الشعر من الوجه ، والمتنمصة التي في وجهها شعر ینفر زوجها عنها بسببه ، ففي تحریم إزالته بعد ؛ لأن الزینة للنساء مطلوبة للتحسین ، إلا أن یحمل علی ما لا ضرورة إلیه ، لما في نتفه بالمنماص من الإیذاء ، وفي تبیین المحارم : إزالة الشعر من الوجه حرام ۔ اه ۔
(۵۳۶/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في النظر والمس)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا یکلم الأجنبیة إلا عجوزًا عطست أو سلمت فیشمتها لا یرد السلام علیها ، وإلا لا انتهی ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (وإلا لا) أي و إلا تکن عجوزًا بل شابة لا یشمتها ، ولا یرد السلام بلسانه، قال في التاتارخانیة : وکذا الرجل مع المرأة إذا التقیا یسلم الرجل أو لا ، وإذا سلمت المرأة الأجنبیة علی رجل ، إن کانت عجوزًا رد الرجل علیها السلام بلسانه بصوت تسمع ، وإن کانت شابة رد علیها في نفسه ، وکذا الرجل إذا سلم علی امرأة أجنبیة ، فالجواب فیه علی العکس ۔ اه ۔(۵۳۰/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في النظر والمس)
ما في ” رد المحتار “ : ولأن الکتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر ۔(۵۹۴/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، باب الاستبراء)
ما في ” قواعد الفقه “ : الکتاب کالخطاب ۔ (ص/۹۹) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۱۳ھ
