بیوی کے انتقال کے بعد اس کا مہر ترکہ میں شامل ہوجاتا ہے!

(فتویٰ نمبر: ۱۱)

سوال:

زید کی بیوی کا انتقال ہوا ،اس کی کوئی اولا د نہیں ہے، زید نے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا ، تو اب وہ مہر کی رقم کس کو دی جائے؟ کیا زید اپنی حقیقی بہن جو غریب ہے اس کو وہ مہر کی رقم دے سکتا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں مہر اب ترکہٴ زوجہ بن گیا،اس میں شرعی میراث جاری ہوگی اور مرحومہ کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے خو د شوہر اس مہر کی نصف مقدار کا حق دار ہوگا؛ اس لیے یہ آدھی مقدار (جس کا وہ حق دار ہے) اگر اپنی بہن کو دینا چاہے، تو دے سکتا ہے، بقیہ آدھی مقدار مرحومہ کے دیگر ورثا میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَّهنَّ وَلَدٌ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (یبدأ من ترکة المیت الخالیة إلخ) ؛ لأن الترکة في الاصطلاح : ما ترکه المیت من الأموال صافیًا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال کما في شروح السراجیة ۔(۴۹۳/۱۰ ، البحر الرائق : ۴۳۴/۹)

ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما للزوج فحالتان : النصف عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل ۔ (ص/۱۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۲/۴ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔