(فتویٰ نمبر: ۶۳)
سوال:
ایک شخص کے پاس بی ایس این ایل سِم کارڈ(BSNL SIM CARD) ہے، کمپنی نے ایک اسکیم نکالی ہے کہ 337/ کے ریچارج پر 666/کا ٹاک ٹائم (Talk Time) ملے گا، توا ب ریچارج رقم سے زائد کا جو ٹاک ٹائم مل رہا ہے، کیا اس کا استعمال جائز ہوگا؟ یا یہ ربا میں شمار ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
سوال میں مذکورہ صورت عقدِ اجارہ کی ہے، گاہک (Customer) مستأجر (Lease Holder) کمپنی (Company) اجیر(Servant) اور ایک مخصوص منفعت (خدمتِ مواصلات) ایک مخصوص مدت تک ایک مخصوص مقدارمیں جسے ہم ٹاک ٹائم(Talk Time)سے تعبیر کرتے ہیں، معقود علیہ ہے، اور جس طرح عقدِ بیع میں بائع کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ مشتری کو مبیع اضافہ وزیادتی کے ساتھ دے، اور مشتری کے لیے اس کا لینا اور استعمال کرنا مباح وجائز ہے، اسی طرح کمپنی جو اجیر ہے، اس کے لیے بھی یہ بات جائز ہوگی کہ 337/ کے ریچارج (Recharge) پر 666/کا (Talk Time) دے، اور گاہک کا اسے لینا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہوگا۔(۱)
احناف کے نزدیک علتِ ربوا قدرو جنس ہے، یعنی عوضین (مبیع وثمن) مکیلات یا موزونات کے قبیل سے ہوں، ہم جنس ہوں اور بیع میں تفاضل یعنی کمی بیشی پائی جائے۔(۲)
سوال میں مذکور صورت میں ربوا کی علت مفقود ہے؛ اس لیے ربوا کا حکم ثابت نہیں ہوگا، کیوں کہ اصول ہے” جب علت منعدم ہوتو حکم بھی منعدم ہوتا ہے“۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” فتح القدیر “ : ویجوز للمشتري أن یزید للبائع في الثمن، ویجوز للبائع أن یزید للمشتري في المبیع ، ویجوز أن یحط من الثمن ۔
(۴۸۰/۶ ، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة)
(مختصر القدوري :ص/۸۱ ، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة)
(۲) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : الربا ۔۔۔۔۔۔ شرعًا (فضل خال عن عوض بمعیار شرعي) ۔۔۔۔۔۔۔۔ وهو الکیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (مشروط) ذلک الفضل (لأحد المتعاقدین) أي بائع أو مشتر ۔۔۔۔۔۔۔۔ (في المعاوضة) ۔ (در مختار) ۔ (۳۹۸/۷ – ۴۰۱ ، کتاب البیوع ، باب الربوا)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وعلته) أي علة تحریم الزیادة (القدر) المعهود بکیل أو وزن (مع الجنس، فإن وجدا حرم الفضل) أي الزیادة ۔ (در مختار) ۔
(۴۰۳/۷ ، ۴۰۴)
ما في ” فتح القدیر “ : الربا محرم في کل مکیل أو موزون إذا بیع جنسه متفاضلا، فالعلة عندنا الکیل مع الجنس والوزن مع الجنس ۔
(۴۰۳/۷ ، باب الربوا ، مختصر القدوري :ص/۸۲ ، باب الربوا)
(۳) ما في ” نور الأنوار مع قمر الأقمار “ : فأینما وجدت العلة وجدت الحرمة ۔ (ص/۱۵۳)
ما في ” أحسن الحواشي علی هامش أصول الشاشي “ : یدار الحکم علی تلک العلة ۔ (أصول الشاشي) قوله : (علی تلک العلة) أي یدار الحکم علی تلک العلة وجودًا وعدمًا ، یعني یوجد حکم النص عند وجوده وینعدم عند عدمه ۔ (ص/۴۷ ، مبحث الثاني بدلالة النص) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۲۲ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی۔۱۴۲۹/۴/۲۲ھ
