تاخیر سے قسطیں ادا کرنے پر خریدار سے جرمانہ لینا

مسئلہ:

اگر کوئی شخص قسطوں پر فلیٹ خریدے اور وقت پر اپنی قسطیں ادا نہ کرے تو اس سے نہ صرف بلڈر کو بلکہ دیگر خریداروں کو بھی دقت ودشواری کا سامنا ہوتا ہے ، لیکن اس تاخیر پر بلڈر کا خریدار سے زائد رقم لینا شرعاً درست نہیں ہے ، کیوں کہ یہ مدت کے عوض زائد رقم لینا ہے اور یہ سود ہے (۱)، البتہ خریدار کو چاہیے کہ وہ وقت پر قسطیں ادا کردے ، تاکہ اپنے عمل سے دوسروں کو تکلیف نہ پہونچے جو شرعاًممنوع ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا

(۱) ما في ’’  القرآن الکریم  ‘‘: {أحل اللہ البیع وحرم الربوا} ۔ (سورة البقرة:۲۷۵)

ما في ’’ الطبري ‘‘: عن قتادة : أن ربا الجاہلیة یبیع الرجل البیع إلی أجل مسمی فإذا حل الأجل ولم یکن عند صاحبه قضاء زادہ وأخر عنه ۔ (۶۷/۳، الدر المنثور:۶۴۴/۱)

ما في’’ الفقه الحنفي في ثوبه الجدید ‘‘: ربا النسیئة وہو ربا التاخیر أو الزیادة المشروطة المقابلة للأجل وہو الربا الذي کان معروفاً لأہل الجاہلیة من دفعہم المال مؤجلاً إلی مدة علی أن یدفع الآخر قدراً معیناً کل شہر مثلاً ویکون رأس المال باقیاً ، وعند حلول الأجل یطالب المدین برأس المال فإن تعذر علیه زادوا في القسط والأجل جمیعاً ۔

(۲۳۵/۴، الربا)

(۲) ما في ’’ الصحیح البخاري ‘‘: عن عبد اللہ بن عمرو عن النبي ﷺ قال : ’’ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ ‘‘ ۔ (۶/۱، کتاب الإیمان)

ما في ’’ مرقاة المفاتیح لملا علي القاري : فیه إشارة إلی أن علامة الإسلام ہي السلامة من إیذاء الخلائق کما أن الکذب والخیانة وخلف الوعد وعلامة المنافق ۔ (۱۳۸/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔