تعمیر مسجدکی بچی ہوئی رقم کا استعمال

مسئلہ:

جو رقم خاص تعمیر مسجد کے عنوان سے جمع کی گئی ہو، اس کو اسی کام (تعمیر) میں لگانا چاہیے(۱)، ہاں! اگر تعمیری کام کے بعد رقم بچ جائے اور آئندہ تعمیر کے لیے کوئی ضرورت باقی نہ رہے، تو چندہ دہندگان کی اجازت سے اس کو امام وموٴذن کی تنخواہ میں دے سکتے ہیں، یا مطلقًا مسجد یامصالحِ مسجد کے لیے چندہ دیا گیا، تو اس صورت میں بھی امام و موٴذن کی تنخواہ میں دے سکتے ہیں۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الشامیة “ : مراعاة غرض الواقفین واجبة ۔ (۶۶۵/۶، کتاب الوقف، مطلب مراعاة غرض الواقفین واجبة والعرف یصلح مخصصًا)

(۲) ما في ” البحر الرائق “ : لو وقف علی مصالح المسجد یجوز دفع غلته إلی الإمام والمؤذن والقیم۔ (۳۵۴/۵، کتاب الوقف)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ویبدأ من غلته بعمارته ثم ما هو أقرب لعمارته کإمام مسجد ومدرس مدرسة یعطون بقدر کفایتهم۔

(۵۵۹/۶-۵۶۱، کتاب الوقف، مطلب یبدأ بعد العمارة بما هو أقرب إلیها)

ما في ” الشامیة “ : وقف وقفین علی المسجد أحدهما علی العمارة والآخر إلی إمامه أو موٴذنه، والإمام والمؤذن لا یستقر لقلة المرسوم للحاکم الدین أن یصرف من فاضل وقف المصالح والعمارة إلی الإمام والمؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة إن کان الوقف متحدًا، لأن غرضه إحیاء وقفه وذلک یحصل بما قلنا۔

(۵۵۱/۶، کتاب الوقف، مطلب في نقل أنقاض المسجد ونحوه)

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۲۶۶۲۳)

اوپر تک سکرول کریں۔