تقسیمِ وراثت سے قبل ذاتی رقم سے مکان کی تعمیر !

(فتو یٰ نمبر: ۹۴)

سوال:

۱-ہم دو بھائی اور ہماری دو بہنیں تھیں، ہمارے والد صاحب کے پاس ایک مکان تھا،جو ۱۹۶۷ءء میں سیلاب کی وجہ سے منہدم ہوگیا، تھوڑی سی سیلابی امدادملی، اور سیلابی امدادی فنڈ سے لون (سودی قرض) لے کر دوسرا مکان بنایا ،ہمارے بڑے بھائی کی معاشی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے انہوں نے مجھے کہا کہ توہی سب انتظام کرلے، اس کے بعد مکان تیار ہوگیا، ہماری ملازمت دوسری جگہ ہونے کی وجہ سے ہم وہاں چلے گئے، اور مکان میرے ماموں زاد کی نگرانی میں تھا، مکان کا جو حکومتی ٹیکس وغیرہ آتا تھاوہ میرے ہی نام سے آتا تھا اورمیں ہی اس کو ادا کرتا تھا، اب ۲۰۰۷ء میں ہمیں مکان کی ضرورت ہونے کی وجہ سے ہم نے ہمارے ماموں زاد سے بات کی، تو اس نے مکان دینے سے انکار کردیا، ہم نے کورٹ کیس کیا اورمکان ہمارے قبضے میں آگیا اور کورٹ کیس کا پورا بل میں نے ہی ادا کیا، اب مکان ہم نے بیچ دیاہے، ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، ان کی اولاد میں چار لڑکے اور ایک لڑکی ہے، ایک بہن کا بھی انتقال ہوگیا ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے، اب شریعت کے اعتبارسے وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

۲-میں نے جتنے پیسے مکان بنانے میں لگائے ہیں، شریعتِ مطہرہ اس کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟

۳-میں نے اپنا حج ادا کرلیاہے،اب میرا ارادہ مرحوم والد اور والدہ کی طرف سے حجِ بدل کا ہے،تو کیا میں مکان کی قیمت میں سے والدین کا حجِ بدل کرسکتا ہوں؟

نوٹ-:والد کا انتقال ۱۹۴۴ء، بھائی کا انتقال ۱۹۷۸ء، اوربہن کا انتقال ۱۹۴۶ء میں ہوا تھا، اور مکان بنانے میں جو پیسے خرچ ہوئے وہ چھوٹے بھائی کی کمائی کے روپے تھے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-آپ نے ورثا کی اجازت سے مکان کی تعمیر میں جو اپنی ذاتی رقم صرف کی تھی، آپ شرعاً اس رقم کے حق دارہیں(۱)، لہٰذا وہ رقم نکالنے کے بعد مکان کی پوری قیمت چھ حصوں میں تقسیم ہوکر دو دو حصے آپ دونوں بھائیوں کو، اور ایک ایک حصہ دونوں بہنوں کو از روئے شرع ملے گا۔(۲)

۲-بڑے بھائی کا حصہ نوحصوں میں تقسیم ہوکر اس کی اولاد یعنی چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر بیٹے کو دو دو حصے،اور بیٹی کو ایک حصہ ازروئے شرع ملے گا۔(۳)

۳۔بہن کے متعلق چونکہ اس کے ورثا، اولا یا شوہر وغیرہ کسی وارث کا ذکر سوال میں موجود نہیں، اس لئے وہ حصہ موجود ورثا کے ان کے مفروض حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگا۔

۴-بعد از تقسیمِ میراث جو رقم آپ کو حاصل ہو آپ اس سے والدین کا حجِ بدل کراسکتے ہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” رد المحتار “ : بنی أحدهما أي أحد الشریکین بغیر إذن الآخر في عقار مشترک بینهما فطلب شریکه رفع بنائه قسم العقار ، فإن وقع البناء في نصیب الباني فیها ونعمت وإلا هدم البناء ، وقوله : (بغیر إذن الآخر) وکذا لو بإذنه لنفسه ؛ لأنه مستعیر لحصة الآخر ، وللمعیر الرجوع متی شاء ، أما لو بإذنه للشرکة یرجع بحصته علیه بلا شبهة ۔ رملي علی الأشباه ۔ قوله : (وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قیمته ۔ ط ۔ عن الهندیة ۔ (۳۸۸/۹ ، کتاب القسمة ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

ما في ” تبیین الحقائق “ : إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون والبنات ، فیکون للإبن مثل حظ الأنثیین۔(۴۸۰/۷ ، کتاب الفرائض، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)

(الفتاوی الهندیة :۴۴۸/۶ ، کتاب الفرائض ، البا ب الثاني في ذوي الفروض)

(۳) ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : مثلما یتصرف صاحب الملک المستقل في ملکه کیفما شاء ۔ (۲۲/۳ ، رقم المادة : ۱۰۶۹)

وما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : ویتصرف کل واحد منهم في حصته کیفما یشاء ۔ (۱۶۸/۳ ، رقم المادة : ۱۱۶۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۶/۶/ ۱۴۲۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔